وزیراعظم یوتھ پروگرام ، ایس ڈی پی آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

وزیراعظم یوتھ پروگرام ، ایس ڈی پی آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم یوتھ پروگرام (پی ایم وائی پی )اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے درمیان ایک لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان بھر میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے، مہارتوں کے فروغ اور گرین اکانومی سے متعلق اقدامات کے لیے دونوں اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔پی ایم وائی پی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق دستخطی تقریب میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر محمد علی ملک، ڈائریکٹر جنرل شہباز شمسی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف ) کے چیئرمین بورڈ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو ڈاکٹر زینب نعیم اور ایڈوکیسی آفیسر رومیلہ قمر بھی موجود تھیں۔

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ تحقیق، پالیسی تجزیے، استعداد کار میں اضافے اور مختلف شعبوں سے وابستہ اداروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ ادارہ پاکستان میں بہتر پالیسی سازی اور ترقیاتی نتائج کے لیے تحقیق اور شواہد پر مبنی تجاویز فراہم کرتا ہے۔اس شراکت داری کا مقصد نوجوانوں کو موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی منصوبہ بندی، پائیداری اور گرین اکانومی کے حوالے سے بہتر مہارتیں فراہم کرنا، سرکلر اکانومی سے متعلق مواقع اور آگاہی کو فروغ دینا، اور پاکستان میں گرین جابز اور مستقبل میں ابھرنے والے روزگار کے مواقع کے حوالے سے شواہد پر مبنی جائزوں کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ یہ شراکت داری تحقیق، پالیسی سازی اور نوجوانوں کی ترقی کو ملک کی بدلتی ہوئی موسمیاتی اور گرین اکانومی کی ترجیحات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت تعاون کا فریم ورک قائم کیا گیا ہے، جس میں ایس ڈی پی آئی نوجوانوں کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور گرین جابز کے حوالے سے تحقیق، پالیسی تجزیے اور شواہد کی بنیاد پر کام کرے گا۔ ایس ڈی پی آئی اپنی تحقیق، ڈیٹا اور تکنیکی مہارت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے ساتھ شیئر کرے گا تاکہ نوجوانوں سے متعلق پروگراموں کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کو مزید مؤثر اور شواہد پر مبنی بنایا جا سکے۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کے نوجوانوں کو وہ علم، مہارتیں اور مواقع فراہم کرنے میں مدد دے گا جن کے ذریعے وہ پائیدار ترقی اور موسمیاتی لچک کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایل او آئی کے تحت دونوں ادارے نوجوانوں کی مہارتوں کے فروغ، پائیداری کے حوالے سے قیادت اور موسمیاتی اقدامات اور گرین اکانومی میں نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔رانا مشہود احمد خاں نے مزید کہا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام اپنے چار بنیادی ستونوں تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات کے تحت ادارہ جاتی اور پروگرام کے حوالے سے معاونت فراہم کرے گا۔ پروگرام اپنے ڈیجیٹل یوتھ ہب (ڈی وائے ایچ ) اور ملک بھر میں قائم یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز کے نیٹ ورک کو بھی استعمال کرے گا، تاکہ نوجوانوں کی رجسٹریشن، رسائی اور تربیتی پروگراموں، بوٹ کیمپس اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کو آسان بنایا جا سکے۔

دونوں اداروں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ، رضاکارانہ کام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کے شراکت داروں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پائلٹ منصوبوں، ان کے دائرہ کار کو بڑھانے اور نتائج کے جائزے کے لیے ڈونرز اور ترقیاتی شراکت داروں سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ایس ڈی پی آئی کے حکام نے ادارے کےسینٹر فار لرننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو نوجوانوں کے لیے عملی سیکھنے اور پیشہ ورانہ تجربے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا۔

اس کے سالانہ سمر انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے شرکاء کو تحقیق، پالیسی تجزیے اور مستقبل کی ملازمتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کے عملی تجربے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

یہ شراکت داری ایک ایسے پاکستان کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے جہاں نوجوانوں کو وہ علم، مہارتیں اور مواقع حاصل ہوں جن کے ذریعے وہ پائیدار ترقی، موسمیاتی لچک اور گرین اکانومی کی جانب منتقلی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔دونوں اداروں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری نوجوانوں کی شرکت کے نئے مواقع پیدا کرنے، پائیداری کے حوالے سے قیادت کو فروغ دینے اور پاکستان میں جامع، مضبوط اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔