ڈیجیٹل اثاثوں کا موثر ضابطہ کار نظام کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے،بلال بن ثاقب کا ڈیجیٹل فنانس کے مستقبل پریو این ہیڈکوارٹرز میں ویڈیو لنک خطاب

بلال بن ثاقب کا ڈیجیٹل فنانس کے مستقبل پریو این ہیڈکوارٹرز میں ویڈیو لنک خطاب

اسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے ڈیجیٹل اثاثہ جات اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ڈیجیٹل فنانس کے مستقبل پریو این ہیڈکوارٹرز میں ویڈیو لنک کے ذریعےخطاب کے دوران کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کا موثر ضابطہ کار نظام کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے کمیونیکیشن یونٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے، ٹوکنائزیشن اور بلاک چین ترقی پذیر معیشتوں کے لیے نئے مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایک ارب چالیس کروڑ افراد اب بھی رسمی مالیاتی نظام سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگی ترسیلاتِ زر اور پیچیدہ مالیاتی نظام عام لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث ہیں، ڈیجیٹل فنانس مالی شمولیت اور کم لاگت ترسیلاتِ زر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل شناخت اور قابلِ تصدیق مالی ریکارڈ چھوٹے کاروباروں کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں، ٹوکنائزیشن انفراسٹرکچر اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں نئی سرمایہ کاری لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاک چین سرکاری اخراجات اور سپلائی چینز میں شفافیت بہتر بنا سکتا ہے۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل فنانس کو ہر مسئلے کا خودکار حل سمجھنا درست نہیں،ریگولیشن میں غیر ضروری تاخیر صارفین اور مارکیٹ دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے،خوف پر مبنی ریگولیشن ٹیکنالوجی کو غیر شفاف ماحول کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیشن کا مقصد مارکیٹ روکنا نہیں بلکہ اسے منظم انداز میں فروغ دینا ہونا چاہیے،واضح اور موثر ریگولیشن غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مددگار ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ میں ڈیجیٹل فنانس کی ریگولیٹری صلاحیت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،ترقی پذیر ممالک ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں پیچھے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے،ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ معیارات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی موثر نگرانی کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت ناگزیر ہے،ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال پائیدار ترقی، مالی شمولیت اور عوامی مفاد کے لیے ہونا چاہیے۔بلال بن ثاقب نے ڈیجیٹل اثاثوں کی مشترکہ عالمی حکمرانی کے لیے رکن ممالک سے تعاون کا بھی مطالبہ کیا۔