42ویں عالمی نمائش میں بڑے برآمدی معاہدوں کا امکان ، غیر ملکی خریداروں سے براہ راست ملاقاتوں کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنایا جائے گا ، کارپٹ ایسوسی ایشن
42ویں عالمی نمائش میں بڑے برآمدی معاہدوں کا امکان ، غیر ملکی خریداروں سے براہ راست ملاقاتوں کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنایا جائے گا ، کارپٹ ایسوسی ایشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ لاہور میں منعقد ہونے والی ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، مختلف ممالک سے خریداروں کی رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے اور قوی امید ہے کہ عالمی نمائش میں بڑے پیمانے پر برآمدی معاہدے ہوں گے جس سے نہ صرف ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ انتہائی اہم صنعت کو بھی تقویت ملے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی نمائش کی تیاریوں کے جائزے کے سلسلہ میں اتوار کو منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن، سینئر ممبر عثمان اشرف، سعید خان، سیکرٹری محمد ریاض سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔اجلاس میں غیر ملکی خریداروں کی جانب سے پاکستان میں منعقدہ عالمی نمائش میں شرکت کے حوالے سے پرجوش ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ ون ٹو ون اور بی ٹو بی ملاقاتوں کے ذریعے کاروباری روابط مضبوط بنانے کیلئے مختلف تجاویز کا جائزہ بھی لیا گیا ۔ چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے اجلاس کو اب تک کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔
شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ غیر ملکی خریداروں سے براہ راست ملاقاتوں کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنایا جائے گا تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو نئے کاروباری مواقع میسر آ سکیں۔چیئرمین میاں عتیق الرحمن اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے کہا کہ نمائش کو شاندار اور کامیاب بنانے کیلئے بھرپور تیاریاں جا ری ہیں جس کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز اپنی ہر ممکن کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اتحاد اور باہمی تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے اس عالمی ایونٹ کو کامیاب بنانا ہے کیونکہ اس کے ذریعے مختلف وجوہات کی بناء پر مشکلات سے دوچار ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خریداروں کو پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کے معیار، ہنرمندی اور برآمدی صلاحیت سے آگاہ کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں گے،اس طرز کی نمائشیں پاکستانی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں مزید نمایاں کرنے، نئے خریدار تلاش کرنے اور برآمدات میں اضافے کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہنر مندوں کی تیار کردہ ہاتھ سے بنے قالین دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں تاہم عالمی سطح پر بھرپور تشہیر اور براہ راست کاروباری روابط نہایت ضروری ہیں۔ عالمی خریداروں کی لاہور آمد سے مقامی برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات پیش کرنے اور مستقبل کے کاروباری معاہدوں کیلئے سازگار ماحول میسر آئے گا۔
اجلاس کوبتایا گیا کہ ایسوسی ایشن نے استنبول اور جرمنی میں منعقد ہونے والی عالمی نمائشوں میں شرکت کیلئے بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ پاکستانی قالینوں کو مزید عالمی پلیٹ فارمز پر متعارف کرایا جا سکے اور غیر ملکی خریداروں کے ساتھ کاروباری روابط کو وسعت دی جا سکے۔میاں عتیق الرحمن اور ریاض احمد نے پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی نمائش میں شرکت کیلئے سبسڈی فراہم کرنے پر ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تعاون سے قالین کی برآمدی صنعت کو عالمی سطح پر فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔








