مسلمان طالب علم رہنما عمر خالد کی بغیر ٹرائل قید کو 6 سال مکمل، بھارتی نظام انصاف پر سوالیہ نشان

مسلمان طالب علم رہنما عمر خالد کی بغیر ٹرائل قید کو 6 سال مکمل، بھارتی نظام انصاف پر سوالیہ نشان

اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):بھارت میں مسلمان طالب علم رہنما عمر خالد کی بغیر ٹرائل کے قید کو 6 سال مکمل ہو گئے جو بھارتی نظام انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔ مودی کے ہندوتوا راج نے مسلمان ہونا ہی دہشتگردی کا مضحکہ خیز الزام لگانے کےلئے کافی بنا دیا ،نئی دہلی فسادات کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے بی جے پی رہنما آزادجبکہ عمر خالد تاحال قید میں ہے، بھارتی متنازع ایکٹ کے تحت بغیر ٹرائل کے قید عمر خالد ضمانت کے حق سے بھی محروم ہے ۔

بھارتی جریدہ دی کوئنٹ کے مطابق6سال سے جیل میں قید عمر خالد گھٹن اور سانس رکنے کے احساس سے شدید ذہنی اذیت میں ہے ، بغیر ٹرائل کے جیل میں قید بیٹے عمر خالد کی جدائی میں ان کی والدہ کی آنکھیں آج بھی نم ہیں ۔ عمر خالد کے والد نے بھارتی نظام انصاف کو مکمل طور پر ناکارہ قرار دیتے ہوئے عدم اعتماد کا اظہار کیا ۔ میئر نیو یارک زہران ممدانی بھی عمر خالد کو خط لکھ کر اظہار یکجہتی کر چکے ہیں۔

سابق بھارتی جج دیپک گپتا نے بھارتی سپریم کورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی کی تاخیر نے عمر خالد سے اس کی آزادی اور جلد انصاف کا حق چھین لیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے بغیر عمر خالد کی طویل حراست نے بھارت میں انصاف کے دعوؤں کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔