سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ گھر میں بیوی کی غیر فطری موت کی صورت میں، جب بنیادی حالات استغاثہ کے حق میں ثابت ہوجائیں تو موت کے حالات کی وضاحت کا قانونی بوجھ شوہر پر منتقل ہوجاتا ہے
گھریلو قتل کے مقدمات میں شوہر کو بیوی کی غیر فطری موت کی وضاحت دینا ہوگی، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ گھر میں بیوی کی غیر فطری موت کی صورت میں، جب بنیادی حالات استغاثہ کے حق میں ثابت ہوجائیں تو موت کے حالات کی وضاحت کا قانونی بوجھ شوہر پر منتقل ہوجاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے مقدمات میں براہِ راست چشم دید گواہی نایاب ہوتی ہے تاہم حالات و واقعات کی مربوط کڑی اور معقول شواہد کی بنیاد پر جرم ثابت کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جیل پٹیشن نمبر 41/2023 کا فیصلہ سناتے ہوئے اہلیہ کے قتل کے مقدمے میں ملزم حبیب اللہ کی درخواست مسترد کردی اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ گھریلو تشدد اور گھر میں خواتین کے قتل کے مقدمات ’’مشکل ثبوت والے جرائم‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ یہ جرائم عموماً بند اور نجی ماحول میں ہوتے ہیں جہاں ملزم کو شواہد چھپانے یا جرم کو حادثہ یا خودکشی ظاہر کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔فیصلے کے مطابق ملزم کی اہلیہ عقیلہ بی بی کو 14 ستمبر 2011 کو گھریلو تنازعہ پر ہتھوڑے کے وار کرکے قتل کیا گیا۔ مقتولہ کی کمسن بیٹی نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ سے قبل تین روز تک والدین کے درمیان موبائل فون پر شدید جھگڑے ہوتے رہے اور واقعہ کی رات اس نے اپنے والد کو ہتھوڑا گھر لاتے دیکھا جبکہ دونوں کو ایک ساتھ کمرے میں جاتے بھی دیکھا تھا۔ اگلی صبح بچوں نے والدہ کو خون میں لت پت مردہ حالت میں پایا جبکہ ملزم گھر سے غائب تھا۔ عدالت نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی کھوپڑی پر شدید زخم بھاری، سخت اور کند آلے کے وار سے آئے تھے جو ہتھوڑے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ملزم نے واقعہ کے بعد پولیس کو اطلاع دینے، بچوں کو تسلی دینے یا اپنی اہلیہ کی آخری رسومات میں شرکت کی بجائے گھر چھوڑ دیا اور تقریباً سات سال تک مفرور رہا۔ عدالت کے مطابق یہ تمام شواہد مل کر جرم کی ایک مکمل اور ناقابلِ انقطاع کڑی تشکیل دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت وہ حقیقت جو کسی شخص کے خصوصی علم میں ہو، اس کا ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری اسی شخص پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ شوہر اپنی اہلیہ کی گھر میں غیر فطری موت کے حالات کی وضاحت کا پابند ہے جبکہ آرٹیکل 129 کے تحت واقعہ کے بعد مفرور ہونا، حکام کو اطلاع نہ دینا، بچوں کو چھوڑ دینا اور آخری رسومات سے گریز جیسے طرزِ عمل سے عدالت منفی نتیجہ اخذ کرسکتی ہے۔ فیصلے میں پولیس تفتیش پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر نے جائے وقوعہ سے خون آلود ہتھوڑا اور خون آلود چادر برآمد کرنے کے باوجود انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جو تفتیش میں سنگین غفلت ہے۔ سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات کی تفتیش کے لئے پولیس اہلکاروں کو صنفی حساسیت اور معاشرتی تعصبات سے نمٹنے کی مناسب تربیت دی جائے اور تفتیش میں غفلت برتنے والے افسران کا احتساب کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی تجویز کیا کہ گھریلو قتل کے ہر واقعہ کا منظم جائزہ لینے کے لئے ایسا طریقہ کار وضع کیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے تفتیش، اداروں کے باہمی تعاون اور حکومتی ردعمل میں خامیوں کی نشاندہی کرکے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔ عدالت نے خواتین کے قتل کے بعد ان کے کردار کو بدنام کرکے جرم کو جواز فراہم کرنے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ خواتین کے مقدمات کی تفتیش اور عدالتی کارروائی میں صنفی حساسیت کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ زیرِ غور مقدمے میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی امر، اہم بے قاعدگی یا دائرہ اختیار سے متعلق خامی نہیں لہٰذا اپیل کی اجازت سے انکار کرتے ہوئے جیل پٹیشن خارج کردی۔








