پی ایف ایف نے خواتین کیلئے فٹ بال کی 2030-2026 کیلئے حکمت عملی کا اجرا کردیا

پی ایف ایف نے خواتین کیلئے فٹ بال کی 2030-2026 کیلئے حکمت عملی کا اجرا کردیا

لاہور۔14ستمبر (اے پی پی):پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے پاکستان خواتین فٹ بال حکمت عملی 2030-2026 کا اجرا کردیا، جس کا مقصد ملک میں خواتین کے فٹ بال کو نچلی سطح سے قومی ٹیم تک منظم انداز میں فروغ دینا اور کھلاڑیوں، کوچز، ریفریز، منتظمین اور قائدانہ کرداروں کے لیے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں کاغذ سے میدان تک کے عنوان سے پیش کی جانے والی حکمتِ عملی پانچ باہم مربوط ستونوں پر مبنی ہے شرکت اور مقابلے، کھلاڑیوں کی ترقی اور اعلیٰ کارکردگی، تعلیم اور صلاحیتوں میں اضافہ، تشہیر و شمولیت اور ترقی، اور انتظام و قیادت۔حکمت عملی ملک میں خواتین کے فٹ بال کے موجودہ ڈھانچے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جس میں 62 رجسٹرڈ کلب اور اکیڈمیاں، 673 رجسٹرڈ خواتین کھلاڑی، پانچ سند یافتہ خواتین ریفریز اور 2020 میں منعقد ہونے والا آخری اے ایف سی اے لائسنس کوچنگ کورس شامل ہیں۔پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے کہا کہ حکمت عملی کا اجرا خواتین کے فٹ بال کے لیے ایک تاریخی موقع پر ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا، یہ پاکستان کی خواتین کے فٹ بال کے لیے ایک تاریخی سال ہے۔ ہماری خواتین کی قومی ٹیم نے فیفا کے ایک ایونٹ میں شرکت کرکے تاریخ رقم کی ہے، جبکہ اب خواتین کی ٹیم کی عالمی درجہ بندی مردوں کی ٹیم سے بہتر ہے۔ ان تمام کھلاڑیوں، کوچز اور عملے کو مبارکباد جنہوں نے یہ ممکن بنایا۔سید محسن گیلانی نے کہا کہ حکمت عملی کی بنیاد تین اہم ترجیحات پر ہے: قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری، نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی، اور خواتین کے فٹ بال کے لیے ایک وسیع اور مضبوط نظام کی تشکیل۔انہوں نے کہا، ہمیں کھلاڑی تیار کرنے کے ساتھ کوچز، ریفریز، منیجرز اور قائدین بھی تیار کرنے ہیں۔ میرا عزم ہے کہ ہم خواتین کے فٹ بال کے لیے ایسا ماحول بنائیں جہاں وہ کھیل میں اپنی مرضی کا کوئی بھی کردار اختیار کرسکیں۔

انہوں نے پی ایف ایف کے حالیہ فٹ بال فار اسکولز پروگرام میں خواتین کی تربیت پر خصوصی توجہ اور فیڈریشن کی جانب سے ایک خاتون کو حفاظتی امور کی ذمہ داری سونپنے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔حکمت عملی پیش کرتے ہوئے ہیڈ آف ویمنز فٹ بال مژگان اورکزئی نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر فٹ بال سے وابستہ ہونے والی لڑکیوں کے لیے قومی ٹیم تک پہنچنے کا ایک واضح اور مربوط راستہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا، اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد نچلی سطح سے اعلی ترین سطح تک خواتین کے فٹ بال کو ترقی دینا ہے۔ موجودہ حالات چیلنجز سے بھرپور ہیں، لیکن ترقی کے بے شمار مواقع بھی موجود ہیں۔ مقصد صفر سے آغاز کرنا نہیں بلکہ جو کچھ پہلے سے موجود ہے اسے مضبوط بنانا ہے۔

حکمتِ عملی کے تحت نچلی سطح اور نوجوانوں کے مقابلوں کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ قومی، صوبائی اور ضلعی خواتین لیگز پر مشتمل مرحلہ وار مقابلوں کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ کھلاڑیوں کی جامع رجسٹریشن اور ملک بھر سے باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے قومی نظام بھی قائم کیا جائے گا۔مژگان اورکزئی نے کہا یہ سفر مواقع کی فراہمی سے شروع ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں اسکولوں، کلبوں اور اکیڈمیوں میں فٹ بال کھیلیں، انہیں باقاعدگی سے مقابلے میسر ہوں اور ایسا نظام موجود ہو جو ملک کے کسی بھی حصے سے سامنے آنے والی صلاحیت کو تلاش کرسکے۔کھلاڑیوں کی ترقی اور اعلی کارکردگی کے تحت علاقائی تربیتی مراکز، قومی نوجوان ٹیموں کے پروگرامز اور خواتین کی قومی ٹیم کے لیے اعلی کارکردگی کا مربوط نظام قائم کرنے کی تجویز ہے۔

حکمتِ عملی میں نوجوان ٹیموں کے لیے بین الاقوامی تجربے اور قومی سینئر ٹیم کے لیے ہر سال کم از کم 10 بین الاقوامی میچز کا ہدف بھی شامل ہے۔مژگان اورکزئی نے کہا اعلی کارکردگی کو اس کے نیچے موجود ترقیاتی نظام سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں کھلاڑیوں کی صلاحیت کو پہلے مرحلے پر تلاش کرنا، ان کی پیش رفت کی نگرانی کرنا اور انہیں اعلی ترین سطح تک پہنچنے کے لیے مناسب کوچنگ، مقابلے اور معاونت فراہم کرنا ہوگی۔تعلیم اور صلاحیتوں میں اضافے کے ستون کے تحت خواتین کوچز کی تربیت، خواتین ریفریز کی ترقی اور انتظامی و قائدانہ کرداروں میں خواتین کے لیے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ حکمت عملی کا ہدف چاروں خطوں میں کم از کم 250 خواتین کوچز کو تربیت اور سرٹیفکیشن فراہم کرنا اور رجسٹرڈ خواتین ریفریز کی تعداد 100 تک پہنچانا ہے۔تشہیر، شمولیت اور ترقی کے تحت اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں آگاہی پروگرامز، خواتین کے فٹ بال کے لیے مارکیٹنگ اور ابلاغی حکمت عملی، ذرائع ابلاغ کے ساتھ شراکت داری اور شائقین کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔

چاروں خطوں میں سالانہ پروگرامز کے ذریعے کم از کم 2,000 لڑکیوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انتظام و قیادت کے ستون کا مقصد فیصلہ سازی میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا، نگرانی اور رپورٹنگ کے نظام کو مضبوط کرنا، کلبوں اور لیگز کو زیادہ پیشہ ور بنانا اور حفاظتی اقدامات اور کھلاڑیوں کی بہبود کے نظام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد کھوکھر نے کہا کہ موثر منصوبہ بندی کا مقصد خوابوں اور عزائم کو حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔پی ایف ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر عدیل رزقی نے نوجوانوں کے فٹ بال کو حکمت عملی کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔انہوں نے کہا، یوتھ فٹ بال انتہائی اہم ہے۔

اگلے تین برسوں میں کیا ہوگا، اس کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم نوجوانوں کے لیے کیا کرتے ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے ذریعے ہم ایک مضبوط قومی نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے وزارتِ بین الصوبائی رابطہ سیدہ مہرین ساجد نے واضح راستہ متعین کرنے کی کوشش کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ ملک کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں موجود صلاحیتوں تک بھی رسائی حاصل کی جائے۔انہوں نے کہا، ایک واضح راستہ بنانا بہت اچھی بات ہے کیونکہ اس سے ہمیں ایک منصوبہ اور سمت نظر آتی ہے۔

میں امید کرتی ہوں کہ اس حکمتِ عملی میں چھوٹے شہروں کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں کو بھی شامل کیا جائے گا، کیونکہ وہاں بہت سا شاندار ٹیلنٹ موجود ہے۔2030 تک حکمتِ عملی کا وژن زیادہ لڑکیوں کی فٹ بال میں شرکت، زیادہ کھلاڑیوں، کوچز اور ریفریز کی تیاری، قیادت میں خواتین کے لیے زیادہ مواقع اور ایک جواب دہ، پیشہ ورانہ اور محفوظ فٹ بال نظام کا قیام ہے۔حکمتِ عملی کا مشن پاکستان میں خواتین کے فٹ بال کو خواتین کے لیے کھیلوں کے نمایاں شعبوں میں شامل کرنا اور ایسا جامع نظام تشکیل دینا ہے جو نچلی سطح سے اعلی ترین سطح تک صلاحیتوں کو پروان چڑھائے۔

مزید خبریں