پشاور روڈ کو سگنل فری کوریڈور بنانے کے لیے دو انڈر پاسز پر کام شروع
پشاور روڈ کو سگنل فری کوریڈور بنانے کے لیے دو انڈر پاسز پر کام شروع

مزید خبریں
راولپنڈی۔15ستمبر (اے پی پی):پشاور روڈ کو سگنل فری کوریڈور میں تبدیل کرنے اور شہر کی مصروف ترین شاہراہوں میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت ریس کورس پارک اور چیئرنگ کراس پر دو بڑے انڈر پاسز کی تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔دونوں انڈر پاسز کی تعمیر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) پنجاب کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے تحت کر رہی ہے جن کی مجموعی لاگت تقریباً 8 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ یہ منصوبے اسلام آباد ایکسپریس وے سے موٹروے چوک تک تقریباً 25 کلومیٹر طویل سگنل فری کوریڈور کی تشکیل کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔حکام کے مطابق ریس کورس انڈر پاس کی لمبائی تقریباً ایک ہزار 886 فٹ یعنی 575 میٹر جبکہ چیئرنگ کراس انڈر پاس کی لمبائی تقریباً ایک ہزار 706 فٹ، یعنی 520 میٹر ہوگی۔ دونوں انڈر پاسز دو لین پر مشتمل سنگل بیرل ڈیزائن کے تحت تعمیر کئے جا رہے ہیں جبکہ یوٹرن اور مقامی ٹریفک کی آمدورفت کے لئے بھی انتظامات کئے گئے ہیں۔
ابتدائی منصوبے میں ریس کورس پارک، آرمی گریو یارڈ چوک اور چیئرنگ کراس پر تین انڈر پاسز تعمیر کئے جانے تھے۔ بعد ازاں، منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے آرمی گریو یارڈ چوک کو انڈر پاسز کے منصوبے سے خارج کر دیا گیا اور وہاں سطح زمین پر سڑک کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ریس کورس اور چیئرنگ کراس انڈر پاسز کو دو سے تین ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاہم حتمی مدت تعمیراتی رفتار اور موقع پر درپیش حالات سے مشروط ہوگی۔منصوبے کے تحت تعمیراتی کام شروع کرنے سے قبل اور دوران بجلی کے کھمبوں، پانی کی سپلائی لائنز اور ٹیلی کمیونیکیشن سمیت مختلف یوٹیلیٹی تنصیبات کی منتقلی کا کام بھی کیا گیا ہے۔
تعمیراتی مرحلے کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے متبادل سروس روڈز بھی تیار کئے گئے ہیں۔ ان میں قاسم مارکیٹ سے ریڈیو پاکستان اور مریضوں کے لئے اہم راستوں سمیت مریم ہسپتال سے رافع مال تک ٹریفک کی متبادل گزرگاہیں شامل ہیں تاکہ مرکزی شاہراہ پر تعمیراتی کام کے باوجود آمدورفت جاری رکھی جا سکے۔ دونوں انڈر پاسز کی تعمیر کے لئے ایف ڈبلیو او کو مرکزی عملدرآمدی ادارہ مقرر کیا گیا ہے۔ دستیاب سرکاری اور معتبر اطلاعات کے مطابق منصوبے کے لئے کسی علیحدہ جوائنٹ وینچر کنٹریکٹر کی نشاندہی نہیں کی گئی جبکہ وسیع تر روڈ امپروومنٹ پروگرام کے تکنیکی اور ڈیزائن سے متعلق امور میں نیسپاک بھی منسلک رہا ہے۔پشاور روڈ پر جاری کام راولپنڈی میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے جاری وسیع تر منصوبوں کا حصہ ہے۔ شہر میں جی پی او انڈر پاس اور نواز شریف فلائی اوور پہلے ہی مکمل کئے جا چکے ہیں جبکہ کچہری چوک کی ری ماڈلنگ کا منصوبہ بھی مئی 2026 میں مکمل کیا گیا تھا۔
جی پی او انڈر پاس کے ذریعے کشمیر روڈ سے این-5 کی جانب رابطے میں بہتری آئی ہے اور علاقے میں واقع اہم طبی مراکز تک رسائی بھی آسان ہوئی ہے۔ اسی طرح کچہری چوک کی ری ماڈلنگ کا مقصد شہر کی مختلف اہم شاہراہوں کے درمیان ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ہے۔حکام کے مطابق سگنل فری کوریڈور کے مکمل ہونے سے ٹریفک سگنلز اور گنجان چوراہوں پر رکنے کی وجہ سے ہونے والی تاخیر میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
منصوبے کے تمام حصوں کی تکمیل اور باہمی رابطے کے بعد اسلام آباد ایکسپریس وے سے موٹروے چوک تک سفر کا دورانیہ تقریباً 15 سے 20 منٹ تک رہنے کی توقع ہے تاہم اصل وقت ٹریفک کے حجم اور دیگر متعلقہ سڑکوں کی تکمیل پر منحصر ہوگا۔پشاور روڈ راولپنڈی کینٹ، صدر، ریس کورس، ویسٹریج اور ملحقہ رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان روزانہ بڑی تعداد میں ٹریفک کو سنبھالتی ہے۔ نئے انڈر پاسز سے جہاں مرکزی ٹریفک کو بلا رکاوٹ گزرنے میں مدد ملے گی، وہیں مقامی اور یوٹرن ٹریفک کے لیے سطح زمین پر موجود سڑکیں استعمال کی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تعمیر کے معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے کام کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ دونوں انڈر پاسز کی تکمیل سے راولپنڈی کے سگنل فری روڈ نیٹ ورک کو مزید وسعت ملنے اور شہر کے اہم ٹریفک پریشر پوائنٹس پر دبائو میں کمی کی توقع ہے۔








