سپریم کورٹ کے وکیل اور معروف آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے 15 ستمبر 2026ء کو بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنا 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی دائرہ اختیار کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار آئینی دائرہ اختیار سے متعلق اہم پیش رفت ہے، حافظ احسان کھوکھر

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے وکیل اور معروف آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے 15 ستمبر 2026ء کو بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنا 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی دائرہ اختیار کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175ای(5) کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر زیر التواء مقدمے میں آئین کی تشریح سے متعلق اہم قانونی سوال موجود ہو تو وہ کسی بھی عدالت میں زیر التواء مقدمے کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔
اس شق میں سپریم کورٹ کو واضح طور پر مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ معاملہ ادارہ جاتی برتری کا نہیں بلکہ آئینی دائرہ اختیار کا ہے کہ کسی مخصوص آئینی سوال پر فیصلہ کرنے کا اختیار آئین نے کس عدالت کو دیا ہے۔ ان کے مطابق ریکارڈ طلب کرنے کا اقدام بذات خود حتمی فیصلہ نہیں بلکہ آئینی سوال کا جائزہ لینے کا مرحلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی منتقلی کے معاملے میں آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10اے، 14 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق کے سوالات بھی سامنے آتے ہیں جبکہ قیدیوں کو بیرونی ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق جیل قوانین اور قواعد بھی اہم ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ طبی سہولیات کی فراہمی قانونی، طبی اور یکساں معیار کے مطابق ہو، نہ کہ کسی قیدی کی حیثیت یا شہرت کی بنیاد پر۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ میں زیر سماعت کارروائی کے آئینی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تاہم صرف ریکارڈ طلب کیے جانے سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ پورے مقدمے کے حوالے سے مکمل طور پر فارغ از دائرہ اختیار (Functus Officio) ہوگئی ہے۔ اس کا انحصار وفاقی آئینی عدالت کے حتمی فیصلے اور زیر بحث معاملات کی نوعیت پر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے آئینی سوال یا قانونی اصول کے بارے میں دیا گیا فیصلہ دیگر عدالتوں بشمول سپریم کورٹ کے لیے لازم ہوگا تاہم 15 ستمبر کا حکم ابھی حتمی فیصلہ نہیں، اس لیے اس کی اصل آئینی اہمیت آئندہ حتمی فیصلے سے متعین ہوگی۔








