دوہرے استعمال کی اشیاء کے لیے یورپی یونین کے پی ٹو پی ایکسپورٹ کنٹرول پروگرام کے تحت تاجکستان کے لیے دو روزہ سٹڈی وزٹ ورکشاپ کا انعقاد

دوہرے استعمال کی اشیاء کے لیے یورپی یونین کے پی ٹو پی ایکسپورٹ کنٹرول پروگرام کے تحت تاجکستان کے لیے دو روزہ سٹڈی وزٹ ورکشاپ کا انعقاد 15 سے 16 ستمبر تک اسلام آباد میں کیا گیا،پانچ اہم سیشنز پر مشتمل ورکشاپ کا افتتاح ایڈیشنل سیکرٹری (یورپ) سفیر عائشہ علی نے کیا۔

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):دوہرے استعمال کی اشیاء کے لیے یورپی یونین کے پی ٹو پی ایکسپورٹ کنٹرول پروگرام کے تحت تاجکستان کے لیے دو روزہ سٹڈی وزٹ ورکشاپ کا انعقاد 15 سے 16 ستمبر تک اسلام آباد میں کیا گیا،پانچ اہم سیشنز پر مشتمل ورکشاپ کا افتتاح ایڈیشنل سیکرٹری (یورپ) سفیر عائشہ علی نے کیا۔

جمعرات کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ورکشاپ کا مشترکہ طور پر انعقاد وزارت خارجہ کے سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن، یورپی یونین اور جرمن وفاقی دفتر برائے اقتصادی امور و ایکسپورٹ کنٹرول نے کیا۔ ورکشاپ میں پاکستان، تاجکستان اور جرمن وفاقی دفتر برائے اقتصادی امور و ایکسپورٹ کنٹرول کے سینئر حکام اور ماہرین نے شرکت کی جنہوں نے قومی سٹریٹجک تجارتی کنٹرول کے فریم ورک سے متعلق تجربات کا تبادلہ کیا اور متعلقہ بین الاقوامی ذمہ داریوں بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 کے مطابق دوہرے استعمال کی اشیاء اور ٹیکنالوجیز کی جائز تجارت میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

افتتاحی کلمات میں عائشہ علی نے پرامن مقاصد اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے دوہرے استعمال کی اشیاء اور ٹیکنالوجیز تک رسائی کے ترقی پذیر ممالک کے حق پر زور دیا۔ انہوں نے قومی سلامتی کے تقاضوں اور جائز تجارت میں سہولت کاری کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عدم پھیلائو اور تخفیف اسلحہ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور حساس ٹیکنالوجیز کی نگرانی اور انتظام کے حوالے سے پاکستان کے ذمہ دارانہ طرز عمل کو اجاگر کیا۔اپنے خیرمقدمی کلمات میں ڈائریکٹر جنرل سٹریٹجک ایکسپورٹ کنٹرول ڈویژن ہارون رشید نے دوہرے استعمال کی اشیاء اور ٹیکنالوجیز کی منتقلی پر موثر کنٹرول کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے شرکا کو پاکستان کے جامع قانون سازی، ضابطہ جاتی اور انتظامی ایکسپورٹ کنٹرول فریم ورک سے آگاہ کیا جس کا مقصد حساس اشیاء اور ٹیکنالوجیز کے غیرپرامن مقاصد کے لیے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ ، میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم اور آسٹریلیا گروپ کی متعلقہ رہنما ہدایات اور کنٹرول لسٹس کی رضاکارانہ طور پر پابندی کرتا ہے جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ایکسپورٹ کنٹرول کے معیار برقرار رکھنے کے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ورکشاپ میں پاکستان کے قومی ایکسپورٹ کنٹرول نظام بشمول لائسنسنگ اور نفاذ کے طریقہ کار کو اجاگر کیا گیا جبکہ تجربات اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کے لیے بھی پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد سٹریٹجک تجارتی کنٹرول کے حوالے سے سرحد پار تعاون کو مضبوط بنانا اور موثر اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ طریقہ کار کے ذریعے محفوظ اور جائز تجارت کو فروغ دینا بھی ہے۔