وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری کے تحت سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹہ میں فوری طور پر 50 فیصد کٹوتی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور وزراء و سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر 3 ماہ کی مکمل پابندی سمیت متعدد اہم فیصلے نافذ کر دیئے ہیں۔
حکومت کا سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کمی، نئی گاڑیوں کی خریداری اور غیر ملکی دوروں پر 3 ماہ کے لئے پابندی کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری کے تحت سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹہ میں فوری طور پر 50 فیصد کٹوتی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور وزراء و سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر 3 ماہ کی مکمل پابندی سمیت متعدد اہم فیصلے نافذ کر دیئے ہیں۔اس ضمن میں جمعرات کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور نفاذ کےلئے قائم کمیٹی کی سفارشات ملحفوظ خاطر رکھتے ہوئے متعدد کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کے نفاذ کی ہدایت کی ہے ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے لئے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کا اطلاق فوری طور پر اگلے تین ماہ کے لئے ہوگا تاہم مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، کسٹم و ایف بی آر اور ضروری خدمات کی آپریشنل گاڑیوں کو اس کٹوتی سے استثنیٰ دیا گیا ہے، البتہ ان محکموں کی انتظامی اور نان آپریشنل گاڑیوں پر یہ پابندی لاگو ہوگی۔
رواں مالی سال کے دوران نان ای آر ای بجٹ میں بھی 5 فیصد ماہانہ کٹوتی کی جائے گی جبکہ ناگزیر سرکاری دوروں پر تمام اعلیٰ حکام کو صرف اکانومی کلاس میں سفر کرنے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مالی سال 27-2026 کے دوران نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد ماہانہ کمی کا اطلاق بیرونِ ملک تعینات پاکستانی مشنز اور ان کے افسران پر بھی ہوگا۔حکومتی فیصلوں کے تحت تمام اقسام کی نئی سرکاری گاڑیوں کے علاوہ ہر قسم کی پائیدار اشیاء (سوائے آئی ٹی سامان کے) خریدنے پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔
سکالرشپس اور بیرونی معاہدوں کے تحت ہونے والی ضروری ٹریننگز کے علاوہ تمام قسم کے بیرونی دوروں پر تین ماہ کی مکمل پابندی ہوگی جبکہ کسی انتہائی ناگزیر صورت میں وفاقی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور سرکاری افسران کو صرف اکانومی کلاس میں فضائی سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری اجلاسوں کے لئے ترجیحی طور پر ٹیلی کانفرنسنگ کا طریقہ کار اپنایا جائے گا اور غیر ملکی وفود کے اعزاز کے علاوہ کسی قسم کے سرکاری عشائیوں کے اہتمام پر مکمل پابندی ہوگی۔ حکومت کے فنڈز سے سیمینارز ، ٹریننگزاور کانفرنسز پر پابندی ہوگی ۔
ناگریز تقاضوں کی صورت میں ایسے ایونٹس کےلئے آڈیٹوریم، کمیٹی رومز اور دیگرسرکاری سہولیات استعمال کی جائیں گی ۔ شادی بیاہ کی تمام تقریبات میں ون ڈش کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔مزید برآں ملک بھر میں تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار بھی مقرر کر دیئے گئے ہیں جس کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور بازار،ڈپارٹمنٹل، جنرل اور کریانہ اسٹورز رات 9:00 بجے تک،شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تمام تجارتی مقامات جہاں تقریبات منعقد ہوتی ہیں، رات 10:00 بجے تک، ریستوران، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس ، پھل اور سبزیوں کی دکانیں رات 11:00 بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
دوسری جانب فارمیسیز، طبی مراکز اور طبی سامان کی دکانیں، میڈیکل لیبارٹریز، کلینکس اور ہسپتال، بیکریاں، تندور اور دودھ و ڈیری شاپس،پیٹرول/سی این جی پمپس اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز، جمز، کھیلوں کی سہولیات اور اسپورٹس/پیڈل کورٹس،آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز کو اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اپنے ہاں اسی طرز کے کفایت شعاری اقدامات اپنانے کی سفارش کی ہے۔








