سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مبینہ والد کا براہ راست ڈی این اے موازنہ نہ ہونے کی صورت میں کسی رشتہ دار کے ساتھ کیا گیا جینیاتی ٹیسٹ ولدیت کے تعین کا حتمی ثبوت نہیں ہوسکتا، ایسے ڈی این اے ٹیسٹ کی قانونی حیثیت دیگر دستیاب شواہد کے تناظر میں دیکھی جائے گی
مبینہ والد کا براہ راست ڈی این اے موازنہ نہ ہو تو رپورٹ ولدیت کا حتمی ثبوت نہیں، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مبینہ والد کا براہ راست ڈی این اے موازنہ نہ ہونے کی صورت میں کسی رشتہ دار کے ساتھ کیا گیا جینیاتی ٹیسٹ ولدیت کے تعین کا حتمی ثبوت نہیں ہوسکتا، ایسے ڈی این اے ٹیسٹ کی قانونی حیثیت دیگر دستیاب شواہد کے تناظر میں دیکھی جائے گی۔جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے برکت خان و دیگر کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ براہ راست والدیت کے ڈی این اے ٹیسٹ میں بچے اور مبینہ والد کے جینیاتی نمونوں کا موازنہ کیا جاتا ہے، جبکہ مبینہ والد دستیاب نہ ہو تو کسی دوسرے رشتہ دار کے ساتھ کیا جانے والا موازنہ بالواسطہ رشتہ داری کا تجزیہ ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ مقدمے میں پیش کیا گیا ڈی این اے ٹیسٹ مبینہ والد کے ساتھ براہ راست موازنے پر مبنی نہیں تھا، اس لیے اسے والدیت کے سوال کا حتمی جواب قرار نہیں دیا جاسکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتوں کو ڈی این اے رپورٹ کے علاوہ نادرا اور یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ، دستاویزی شواہد اور گواہوں کی شہادتوں کو بھی مجموعی طور پر مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے دستیاب شواہد اور سرکاری ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا، جس میں کسی اہم شہادت کو نظرانداز یا غلط طور پر پڑھنے کا ثبوت نہیں ملا۔عدالت نے درخواست میں میرٹ نہ ہونے پر اسے خارج کر دیا۔








