خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں گزشتہ 24 روز سے بنیادی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کے لیے ہڑتال کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم نیوٹرل ڈاکٹرز فورم نے قلم چھوڑ ہڑتال کے ساتھ گزشتہ روز ایل آر ایچ میں ڈاکٹروں پرسیکیورٹی کی جانب سے تشدد کے واقعے کے بعد ہسپتالوں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے
ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کے نوٹیفکیشن تک احتجاج جاری رہے گا، ڈاکٹر عدنان آ فریدی

مزید خبریں
پشاور۔ 30 ستمبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں گزشتہ 24 روز سے بنیادی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کے لیے ہڑتال کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم نیوٹرل ڈاکٹرز فورم نے قلم چھوڑ ہڑتال کے ساتھ گزشتہ روز ایل آر ایچ میں ڈاکٹروں پرسیکیورٹی کی جانب سے تشدد کے واقعے کے بعد ہسپتالوں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اب قلم چھوڑ ہڑتال کے ساتھ وہ اپنی حفاظت کے لیے گھروں کا رخ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار نیوٹرل ڈاکٹرز فورم کے چیئرمین ڈاکٹر عدنان آفریدی نے لیڈی ریڈنگ پشاور ہسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور، خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر ہسپتالوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی گارڈ کے ذریعے احتجاج کرنے والے پرامن ڈاکٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ثابت ہو گیا کہ اب ڈاکٹر اپنے ہسپتالوں میں بھی محفوظ نہیں اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب قلم چھوڑ ہڑتال کے ساتھ ڈاکٹر اپنے گھروں کو جائیں گے اور ہسپتالوں کے وارڈوں میں صرف ایک ڈاکٹر ڈیوٹی سر انجام دے گا اور ایمرجنسی کور بھی دیا جائے گا تاکہ مریضوں کو تکلیف نہ ہو ۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہمیں محکمہ صحت کی جانب سے مذاکرات کے لیے بلا کر کہا جاتا ہے کہ آپ انتظار کریں اور دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ آپ کمیٹی بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کمیٹی موجود ہے لیکن خیبر پختونخواکی حکومت ہمارے مطالبات جو ہمارا بنیادی حق ہے 30 فیصد تنخواہوں میں اضافہ وہ پورا نہیں کر رہی ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہماری ڈیمانڈ پوری نہیں ہوتی ہم احتجاج جاری رکھیں گے اور اگر گھروں میں موجود ڈاکٹروں کو بھی کسی نے ہراساں کرنے کی کوشش کی تو ان سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ۔ ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ محکمہ صحت کے سیکرٹری اور کرتا دھرتا ہمیں مذاکرات کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں اور اب ہم مذاکرات کریں گے تو صرف خیبر پختونخواکے وزیراعلی سے مذاکرات کریں گے اس کے علاوہ ہم کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے اور جب تک ہماری ڈیمانڈ پوری نہیں ہوتی 30 فیصد تنخواہ بڑھانے کی تو یہ احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کو تشدد کا شکار بنانے والے ایل ار ایچ کی انتظامیہ کے بارے میں بھی تحقیقات کے بعد ایف آئی ار کاٹی جائے گی اور ڈاکٹروں کے حقوق کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں سے ڈاکٹروں کی کوئی تنخواہ نہیں بڑھی ، ہر صوبائی بجٹ میں ڈاکٹروں کو دیوار سے لگایا گیا اور صرف تسلیاں دے کر انہیں ٹرخایا گیا۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے مزید کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کے سلسلے میں اگر ہمیں ہڑتال کے لیے تین چار مراحل طے کرنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت چھ ہزار ٹی ایم اوز اور ایچ اوز ہڑتال پر ہیں لیکن حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اور جب بھی کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو ہمارے ڈاکٹر اپنی ہڑتال کو پس پشت ڈال کر زخمیوں اور شہیدوں کی خدمت کے لیے آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن اس پر بھی خیبرپختونخوا حکومت کو شرم نہیں آتی۔ آخر میں ڈاکٹر عدنان آفریدی نے گزشتہ روز لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل پشاور میں پرامن ڈاکٹروں کو تشدد کا شکار بنانے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کو تشدد کے احکامات جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔








