پشاور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی

پشاور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما کامران بنگش کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی

پشاور۔ 30 ستمبر (اے پی پی):پشاور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما کامران بنگش کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران کامران بنگش کی جانب سے بیرسٹر ظفر اور انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کو دلائل دیتے ہوئے وکیل انعام یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ کامران بنگش کو ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں گرفتاری کا خدشہ ہے، جس کے باعث ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے وکیل انعام یوسفزئی سے استفسار کیا کہ آپ کو تو انہوں نے اے جی آفس سے ہٹایا، اب بھی ان کے لیے پیش ہو رہے ہیں؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے جی آفس میں ایک بندہ کام کا تھا، اسے بھی ہٹا دیا۔اس پر انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے بھتہ دینے سے انکار کیا، اس لیے ہمیں نکالا گیا۔وکیل کے مؤقف پر چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دئیے کہ تعجب ہے، صاف چلی شفاف چلی حکومت میں بھی بھتے مانگے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

مزید خبریں