وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بن قاسم ٹائون، ضلع ملیر کے دیہہ جوریجی میں زیرِ تعمیر سندھ فارینزک سائنس لیبارٹری کا دورہ کیا، جہاں انہیں منصوبے کی پیش رفت، ڈیزائن اور مجوزہ سہولیات پر بریفنگ دی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ تعمیراتی کام تقریباً 85فیصد مکمل ہو چکا ہے
وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار کانئی سندھ فارینزک لیبارٹری کی زیرِ تعمیر عمارت کا دورہ

مزید خبریں
کراچی۔ 08 اکتوبر (اے پی پی):وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بن قاسم ٹائون، ضلع ملیر کے دیہہ جوریجی میں زیرِ تعمیر سندھ فارینزک سائنس لیبارٹری کا دورہ کیا، جہاں انہیں منصوبے کی پیش رفت، ڈیزائن اور مجوزہ سہولیات پر بریفنگ دی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ تعمیراتی کام تقریباً 85فیصد مکمل ہو چکا ہے، جبکہ عمارت کی تکمیل اور حوالگی مالی سال 2026-27میں متوقع ہے،یہ منصوبہ 30ایکڑ رقبے پر قائم کیا جا رہا ہے۔جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق منصوبے میں مرکزی لیبارٹری عمارت، شواہد جمع کرنے کا بلاک، استقبالیہ بلاک اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ عمارتوں کا مجموعی احاطہ شدہ رقبہ تقریباً 393,145 مربع فٹ ہوگا، لیبارٹری میں 14 فارینزک شعبے قائم کیے جائیں گے، جن میں ڈیجیٹل فارینزک و فارینزک فوٹوگرافی، پیتھالوجی، ٹریس کیمسٹری، آتشیں اسلحہ و ٹول مارکس، ٹاکسیکولوجی، کمپیوٹر فارینزک، مشکوک دستاویزات، ڈی این اے و سیرولوجی، پوشیدہ فنگر پرنٹس، آڈیو ویژول تجزیہ، منشیات، پولی گراف، جائے وقوعہ و جائے موت کی تحقیقات اور دھماکہ خیز مواد کا تجزیہ شامل ہیں۔
بریفنگ میں لیبارٹری کے ماحولیاتی کنٹرول، خصوصی برقی و ڈیٹا نظام، متبادل بجلی، بائیو سکیورٹی، حفاظتی نظام اور کیمیائی لیبارٹریوں کے لیے مخصوص وینٹی لیشن کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ لیبارٹری کو فعال بنانے کے لیے آلات و فرنیچر کی خریداری، تربیت اور عملیاتی انتظامات کا منصوبہ بھی منظور کیا جا چکا ہے۔وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ لیبارٹری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور تمام ضروری ڈیجیٹل سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے تعمیراتی کام جلد مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید فارینزک سہولیات سائنسی تحقیقات اور فوجداری نظامِ انصاف و استغاثہ کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن، ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی کرائم برانچ، ڈی آئی جی ایسٹ اور ایس ایس پی ملیر بھی موجود تھے۔







