قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامذاکرات کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بنے رہے،آفتاب احمد خان شیرپاؤ

مزید خبریں
ایبٹ آباد۔ 19 اکتوبر (اے پی پی):قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کے پیچھے پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت کا غلط بیانیہ تھا۔پیر کو یہاں ایبٹ آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی، تاہم سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود ان مذاکرات کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بنے رہے۔
آفتاب احمد شیرپاؤ نے صوبہ کی انتظامی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کا کوئی ذمہ دار نہیں رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ میں ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر ہو چکا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اب سب سے پہلی ترجیح عوام کا اعتماد بحال کرنا ہونی چائیے اور دہشت گردی میں کمی لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملے گا، تب تک گورنر راج کے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے۔
انہوں اپنے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں پر وضاحت کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے گورنر خیبرپختونخوا بننے سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔انہوں نے صوبہ کو بحرانوں سے نکالنے کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پائیدار ترقی اور امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سیاسی و انتظامی اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔








