نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو (این ای او سی) نے پیرکو سندھ کے ضلع کراچی شرقی سے پاکستان میں سال 2026ء کے ساتویں پولیو کیس کی تصدیق کی ہے۔ یہ کیس بچوں کو عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والے اس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو کی سندھ کے ضلع کراچی شرقی سے پاکستان میں سال 2026 کے ساتویں پولیو کیس کی تصدیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسداد پولیو (این ای او سی) نے پیرکو سندھ کے ضلع کراچی شرقی سے پاکستان میں سال 2026ء کے ساتویں پولیو کیس کی تصدیق کی ہے۔ یہ کیس بچوں کو عمر بھر کی معذوری کا سبب بننے والے اس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں تاہم ویکسین کے ذریعے اس مرض سے موثر اور محفوظ طریقے سے بچائو ممکن ہے۔جاری تفصیلات کے مطابق متاثرہ بچہ چھ ماہ کا ہے اور یونین کونسل جمالی کالونی سے تعلق رکھتا ہے،یہ کیس پولیو سرویلنس کے نظام کے ذریعے رپورٹ ہوا جس کی تصدیق قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسدادِ پولیو نے کی۔کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
انسداد پولیو پروگرام (پی ای آئی) وائرس کے مزید پھیلائو کی روک تھام اور موثر ردعمل کے لیے سائنسی شواہد کی بنیاد پر حکمت عملی کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں مخصوص علاقوں میں ویکسینیشن سرگرمیاں اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔کراچی سے پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024ء میں رپورٹ ہوا تھا۔وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (ڈبلیو پی وی آئی) کے پھیلائو میں مجموعی کمی کے باوجود کراچی بلاک میں رواں سال کے دوران ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی سامنے آتی رہی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچوں کی صحت کو اب بھی پولیو وائرس سے خطرہ لاحق ہے۔ کراچی میں آبادی زیادہ ہے اور لوگوں کی آمدورفت بھی مسلسل جاری رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض علاقوں میں بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے کی شرح کم ہے جبکہ بعض والدین اپنے بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے سے انکار بھی کرتے ہیں،ان وجوہات کی بناء پر کراچی پولیو وائرس کی موجودگی کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے وائرس کے دیگر اضلاع تک پھیلنے کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔پولیو ویکسین کے محفوظ اور موثر استعمال کی بدولت پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسز کے مقابلے میں 2025ء میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ رواں سال اب تک سات کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
رواں سال رپورٹ ہونے والے سات کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا سے ہیں جن میں چار کیسز صرف جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے جبکہ دو کیسز سندھ سے سامنے آئے ہیں۔سال 2026ء میں پاکستان میں اب تک پولیو کے خلاف چار بڑے پیمانے کی مہمات منعقد کی جا چکی ہیں جن کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔ اس کے علاوہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے او پی وی (او پی وی) اور انجکشن کے ذریعےویکسینیشن کی مہمات بھی جاری رہیں۔ گزشتہ ماہ ملک بھر میں منعقدہ پولیو مہم کے دوران 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔ انسداد پولیو کی آئندہ مہم 2 سے 8 نومبر 2026ء تک منعقد کی جائے گی جس کے دوران کراچی کے تمام اضلاع سمیت ملک کے 97 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے۔پولیو ایک انتہائی متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور بعض صورتوں میں موت کا باعث بھی بن سکتی ہے تاہم محفوظ اور موثر پولیو ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے بچائو ممکن ہے۔ یہ ویکسین دنیا کے 195 ممالک بشمول تمام مسلم اکثریتی ممالک میں محفوظ طریقے سے استعمال کی جا رہی ہے۔
پولیو کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان کے محنتی فرنٹ لائن ورکرز بچوں کو گھر کی دہلیز پر پولیو سے بچائو کے قطرے پلا رہے ہیں جبکہ والدین کا اہم کردار ہے کہ وہ پانچ سال تک کی عمر کے اپنے ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچائو کے دو قطرے ضرور پلوائیں اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی بروقت مکمل کروائیں۔والدین، کمیونٹی رہنمائوں، مذہبی رہنمائوں اور میڈیا کا بھی اہم کردار ہے کہ وہ ویکسینیشن کے بارے میں درست معلومات عام کریں، غلط معلومات کی حوصلہ شکنی کریں اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ کوئی بچہ پولیو ویکسین سے محروم نہ رہے۔








