چین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے پاک۔ چین دوستی کو مستحکم بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے میں شنہوا نیوز ایجنسی کے نمایاں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے صحافت میں مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیاہے۔
عالمی میڈیا سمٹ میں پاکستان کے سفیر کا پاک ـ چین دوستی کے فروغ میں شنہوا نیوز ایجنسی کے کردار کو خراجِ تحسین، صحافت میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور

مزید خبریں
بیجنگ۔7نومبر (اے پی پی):چین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے پاک۔ چین دوستی کو مستحکم بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے میں شنہوا نیوز ایجنسی کے نمایاں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے صحافت میں مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیاہے۔
ہفتہ کو چین میں پاکستانی سفارتخانے سے جاری بیان کے مطابق شنہوا نیوز ایجنسی کے 95ویں یوم تاسیس کے موقع پر ’’ذہین دور میں میڈیا: اتفاق رائے سے عملی اقدامات تک‘‘ کے عنوان سے منعقدہ 7ویں عالمی میڈیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے حکومت اور عوام پاکستان کی جانب سے چینی خبر رساں ادارے کو اس اہم سنگ میل کی تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔انہوں نے بین الاقوامی صحافت اور ابلاغ کے شعبے میں شنہوا کی دیرینہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے چین کو دنیا سے جوڑنے اور مختلف ممالک کے درمیان بہتر افہام و تفہیم پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کے دوران شنہوا نے دونوں ممالک کی پائیدار دوستی کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے ساتھ شنہوا کی دیرینہ ادارہ جاتی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خبروں کے تبادلے، پیشہ ورانہ دوروں اور ادارہ جاتی تعاون نے باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد فراہم کی ہے۔پاکستانی سفیر نے پاک چین دوستی کو نیک نیتی، باہمی اعتماد، تعاون اور اشتراکِ عمل پر مبنی ایک کامیابی کی داستان قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔سفیر نے اس دیرینہ دوستی کو نوجوان نسل تک منتقل کرنے اور اس کی داستان عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
عالمی میڈیا سمٹ کے موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر سید علی اسدگیلانی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں لا رہی ہیں، جس سے میڈیا کو زیادہ قابلِ رسائی اور عوامی ضروریات کے مطابق بنانے کے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ان تکنیکی ترقیوں کے ساتھ عوامی اعتماد اور صحافت کی ساکھ کو درپیش چیلنجز بھی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی کے باوجود صحافت کا بنیادی مقصد تبدیل نہیں ہوا۔ اس کا مقصد عوام کو ذمہ داری کے ساتھ باخبر رکھنا، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینا اور امن و تعاون کے قیام میں کردار ادا کرنا ہے۔
سفیر نے سرحدوں سے ماورا امن، استحکام اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے مشترکہ سوچ کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی اور میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال پہلے سے موجود عالمی انتشار اور بے چینی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے امید ظاہر کی کہ عالمی میڈیا سمٹ میڈیا کے رہنماؤں، پالیسی سازوں اور شعبے سے وابستہ ماہرین کو ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی، جہاں وہ سچائی، مستند معلومات اور ذمہ دارانہ صحافت کے بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر ٹیکنالوجی کے ذریعے مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں کے فروغ کے طریقوں پر غور کر سکیں گے۔
اس موقع پر سفیر نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی تہنیتی پیغام بھی پڑھ کر سنایا، جو شنہوا نیوز ایجنسی کے قیام کی 95ویں سالگرہ کے حوالے سے تھا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی نے ایک مرتبہ پھر شنہوا نیوز ایجنسی کو 95 سالہ خدمات کی تکمیل پر مبارک باد دی اور ساتویں عالمی میڈیا سمٹ کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ اجتماع ذہانت کے دور میں عالمی سطح پر بہتر افہام و تفہیم اور بامقصد تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔







