اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) سابق سفیرعبدالباسط نے کہا ہے کہ ہندو انتہاپسندی سے بھارت کی مختلف اقوام میں سماجی و اقتصادی توازن بگڑ گیا ہے‘یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کی تاریخ مذہبی انتہاپسندی، نفرت اور تشدد سے بھری پڑی ہے ۔وہ جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے زیرِاہتمام ”تکثیریت بمقابلہ اخراجیت، ہندوستان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا جائزہ“ کے موضوع پر ایک …
سابق سیفر عبدالباسط کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 فروری (اے پی پی) سابق سفیرعبدالباسط نے کہا ہے کہ ہندو انتہاپسندی سے بھارت کی مختلف اقوام میں سماجی و اقتصادی توازن بگڑ گیا ہے‘یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کی تاریخ مذہبی انتہاپسندی، نفرت اور تشدد سے بھری پڑی ہے ۔وہ جمعرات کو انسٹی ٹیوٹ پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے زیرِاہتمام ”تکثیریت بمقابلہ اخراجیت، ہندوستان میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا جائزہ“ کے موضوع پر ایک سیمینار کے سے خطاب کر رہے تھے۔سابق سفیرعبدالباسط نے کہا کہ یہ حقیقت واضح ہے کہ مودی ماضی کی طرح ایک منصوبے کے تحت انتہاپسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس لیے خدشہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں اقلیتوں اور مسلمانوں کے لیے حالات مزید خراب ہوں گے۔ کشمیریوں کے خلاف بھارت حکومت کے اقدامات میں شدت آئے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل میں پیشرفت کے امکانات مزید کم ہوں گے۔قبل ازیں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن نے سیمینار کے موضوع کا تعارف کرایا اور کہا کہ بھارت ہندووں، مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کی مشترکہ سرزمین ہے۔








