اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثقافت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے‘جب آمریت آتی ہے تو فن ‘فنکار کمیونٹی اور اظہاررائے کا حق محدود ہو جاتا ہے، حکومت پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کا اعلان کرنے جا رہی ہے جس سے ملک میں ثقافت کے فروغ اور فلمی صنعت …
وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب کا قومی آرٹسٹ کنونشن 2018 اور سی پیک ثقافتی کارواں فیسٹیول کی تقریب رونمائی سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثقافت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے‘جب آمریت آتی ہے تو فن ‘فنکار کمیونٹی اور اظہاررائے کا حق محدود ہو جاتا ہے، حکومت پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کا اعلان کرنے جا رہی ہے جس سے ملک میں ثقافت کے فروغ اور فلمی صنعت کی بحالی کیلئے فیصلہ کن دور شروع ہو گا، ثقافتی پالیسی تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت سے مرتب کی گئی ہے، فلم پالیسی میں فلم فنانس فنڈ‘فلم اکیڈمی ‘نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس فار پرمارنگ آرٹ اوراکیڈمز فار میوزک ‘فلم اینڈ ویژول آرٹ کا قیام، فلم بنانے اور سینما گھروں کے آلات کی برآمد پر ٹیکسز کی چھوٹ ، آرٹسٹ کے ڈیٹابیس کی تیاری اور کلچر سے متعلق اداروں کے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، سینما گھروں میں ٹکٹوں پر عائد ٹیکسز کی شرح بھی انتہائی کم رکھی جائے گی، حکومتی کاوشوں کا مقصد فنکاروں کی معاونت کی بجائے انہیں جائز مقام دلانا ہے، پہلی مرتبہ شنگھائی بیجنگ فلم فیسٹیول میں پاکستان شریک ہو گا، فلم اور کلچر کیلئے پالیسیز کی تشکیل کا مقصد فلم کلچر، ورثہ اور براڈ کاسٹنگ کے ذریعے پرامن پاکستان کے بیانیہ کی بحالی ہے، آرٹ کی ترویح کے ذریعے دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ وہ جمعہ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹ (پی این سی اے) میں فیسٹیول کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہی تھیں۔








