آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آئی پی پیز کو 80 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے سے متعلق خبر کی تردید

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (اے پی پی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آئی پی پیز کو 80 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے سے متعلق خبر کی دوٹوک انداز میں تردید کر دی۔ جمعرات کو اے جی پی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 29 مارچ کو میڈیا کے ایک حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں دعوٰی کیا گیا …

اسلام آباد ۔ 29 مارچ (اے پی پی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آئی پی پیز کو 80 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے سے متعلق خبر کی دوٹوک انداز میں تردید کر دی۔ جمعرات کو اے جی پی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 29 مارچ کو میڈیا کے ایک حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں دعوٰی کیا گیا تھا کہ آڈیٹر جنرل کی جانب سے ادائیگیوں کا پری آڈٹ کرنے سے گریز کی وجہ سے آئی پی پیز کو 80 ارب روپے کی ادائیگی کا منصوبہ کٹھائی میں پڑ ا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اے جی پی آفس کی جانب سے سیکرٹری وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کو پہلے ہی اس حوالے سے قانونی و آئینی پوزیشن سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ادائیگیوں کا پری آڈٹ کرنا اے جی پی کا اختیار نہیں ہے کیونکہ یہ اے جی پی کی طرف سے کیے جانے والے دستوری پوسٹ آڈٹ کی معروضیت اور خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔ اے جی پی کا کردار پری آڈٹ چیکس تجویز کرنا ہے جن کی کنٹرولر جنرل آف اکاﺅنٹس نے پیروی کرنا ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خبر میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو پری آڈٹ میں تاخیر کا زمہ دار قرار دینا حقائق اور قانونی صورتحال کے منافی ہے، اس طرح کی خبر کی اشاعت سے قبل اے جی پی کے محکمہ سے رابطہ کیا جانا چاہیے۔

مزید خبریں