وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان کا ساتویں ساﺅتھ ایشیئن کانفرنس برائے سینی ٹیشنکی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ساتویں ساﺅتھ ایشیئن کانفرنس برائے سینی ٹیشن (سیکوسان) علم کے تبادلہ اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کےلئے علاقائی پلیٹ فارم بن گیا، اس فورم سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں خطہ کے لوگوں کو صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور آبی وسائل کی سہولیات کی فراہمی میں …

اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ ساتویں ساﺅتھ ایشیئن کانفرنس برائے سینی ٹیشن (سیکوسان) علم کے تبادلہ اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کےلئے علاقائی پلیٹ فارم بن گیا، اس فورم سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں خطہ کے لوگوں کو صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور آبی وسائل کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، پاکستان نے وسائل کی کمی کے باوجود اس شعبہ کو ترجیحات میں شامل کیا ہے، سینیٹیشن سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز سے مو¿ثر انداز میں نمٹنے کیلئے علاقائی ممالک میں تعاون پر مبنی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ وہ جمعہ کو یہاں ساتویں ساﺅتھ ایشیئن کانفرنس برائے سینی ٹیشن (سیکوسان) کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر افغانستان، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا کے وفود کے سربراہان نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزیر مشاہد اللہ نے کہا کہ وہ سیکوسان کو علم کے تبادلہ اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کےلئے علاقائی پلیٹ فارم بنانے پر تمام رکن ممالک کو مبارکباد دیتے ہیں۔ اس فورم سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں خطہ کے لوگوں کو صفائی ستھرائی، حفظان صحت اور آبی وسائل کی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

مزید خبریں