صدر مملکت ممنون حسین کا یونس ایمرے ا نسٹیٹیوٹ کے زیرِ اہتمام تصویری نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے دانشوروں کے میل جول سے وسط ایشیا اور ای سی او ممالک کے درمیان ایک نیا لسانی میل بننے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس کی مدد سے جدید شاہراہ ریشم سے زیادہ سے زیادہ فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے اور خطے میں امن و استحکام قائم کرنے …

اسلام آباد ۔ 13 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے دانشوروں کے میل جول سے وسط ایشیا اور ای سی او ممالک کے درمیان ایک نیا لسانی میل بننے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس کی مدد سے جدید شاہراہ ریشم سے زیادہ سے زیادہ فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے اور خطے میں امن و استحکام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بات یونس ایمرے ا نسٹیٹیوٹ(ترک مرکز ثقافت)کے زیرِ اہتمام منعقدہ تصویری نمائش کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ترکی کے سفیر احسان مصطفی ی±وردہ کول ، ڈاکٹر خلیل طوقار اور ممتاز دانشور فاروق عادل نے بھی خطا ب کیا۔ تقریب میں سفارتی برادری اور دانشوروں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلق کی گہرائی اور گرم جوشی کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ مشترکہ تاریخ نے دونوں ملکوں اور ان کے عوام کو اخلاص ومحبت کے لازوال رشتے سے منسلک کر رکھا ہے۔انھوں نے کہا کہ خلافت عثمانیہ کی بقا کے لیے مسلمانوں نے مشکل وقت میں ترکوں کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا،یہاں تک کہ خواتین نے اپنے قیمتی زیورات بھی چندے میں دے دیے۔انھوں نے مسرت کا اظہار کیا کہ ترک بھائی مشترکہ تاریخ سے بخوبی آگاہ ہیں اور نئی نسل تک منتقلی نے انھیں بے حد متاثر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ترک بچوں کی طرح پاکستانی بچے بھی تاریخ کے مختلف مراحل، خاص طور پر برصغیر کو غیر ملکی تسلط سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں شیرِ میسور ٹیپوسلطان شہید سمیت دیگر حریت پسندوں کے ساتھ خلافتِ اسلامیہ کے فراخ دلانہ اور جرات مندانہ تعاون سے آگاہ ہی نہیں بلکہ ان کے شکر گزار بھی ہیں۔

مزید خبریں