بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم سپارک نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافے کے صحت عامہ اور مالیاتی فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سالانہ 51 ارب روپے تک اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ تمباکو نوشی اور اس سے منسلک اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔
سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے 51 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، سپارک

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم سپارک نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافے کے صحت عامہ اور مالیاتی فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سالانہ 51 ارب روپے تک اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ تمباکو نوشی اور اس سے منسلک اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے پاکستان کو درپیش صحت عامہ اور مالیاتی چیلنجز کے تناظر میں تمباکو پر ٹیکس کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ تمباکو پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے اس کا استعمال کم ہوتا ہے، ایسے اقدامات سے حکومتی آمدن میں اضافہ، تمباکو کے استعمال میں کمی، صحت کے اخراجات میں کمی اور قابلِ روک تھام اموات کی تعداد میں کمی ممکن ہے۔
پاکستان اس وقت تمباکو کے استعمال کے ایک بڑے بوجھ کا سامنا کر رہا ہے جہاں اندازاً 3 کروڑ 10 لاکھ بالغ افراد تمباکو مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہر سال ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد اموات ہوتی ہیں جن میں روزانہ تقریباً 526 اموات شامل ہیں۔ ان اموات کی بڑی وجوہات دل کے امراض، کینسر اور سگریٹ نوشی سے جڑی دیگر بیماریاں ہیں۔ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرحیں فروری 2023 سے تبدیل نہیں کی گئیں جس کے نتیجے میں سگریٹ کی خوردہ قیمت میں ٹیکس کا حصہ کم ہوا ہے اور خاص طور پر کم قیمت برانڈز نسبتاً زیادہ قابلِ خرید بن گئے ہیں۔
ڈاکٹر خلیل احمد کے مطابق تمباکو کے استعمال کا معاشی بوجھ بہت زیادہ ہے، تمباکو سے منسلک بیماریوں پر صحت کے اخراجات کا تخمینہ 1,835 ارب روپے لگایا گیا ہے جو ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 1.6 فیصد بنتا ہے، یہ رقم تمباکو سے حاصل ہونے والے 266 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو سے کہیں زیادہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمباکو سے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والے ہر ایک روپے کے مقابلے میں پاکستان کو تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج پر تقریباً سات روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں جس سے مجموعی طور پر بڑا معاشی نقصان ہوتا ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے سپارک نے آئندہ وفاقی بجٹ میں سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
تجویز کے مطابق کم قیمت سگریٹ برانڈز پر 35 روپے فی پیکٹ اور پریمیم برانڈز پر 21 روپے فی پیکٹ اضافی ٹیکس عائد کیا جائے جبکہ بتدریج یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیشرفت کی جائے۔ اس اصلاحات کا مقصد خصوصاً بچوں اور نوجوانوں میں سگریٹ کی دستیابی اور خریداری کو کم کرنا اور صارفین کو سستے برانڈز کی طرف منتقل ہونے سے روکنا ہے۔ سپارک کے تجزیہ کے مطابق مجوزہ ٹیکس اضافہ 51 ارب روپے تک اضافی آمدن پیدا کر سکتا ہے، تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے سے روک سکتا ہے جبکہ 2 لاکھ 70 ہزار موجودہ تمباکو نوش افراد کو سگریٹ چھوڑنے یا اس کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
یہ نتائج صحت عامہ کی بہتری اور مالیاتی استحکام دونوں میں معاون ثابت ہوں گے۔ عالمی بہترین طریقہ کار، بشمول ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول اور ایم پاور حکمتِ عملی کے مطابق، سپارک نے زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ دوہرا فائدہ فراہم کرتا ہے۔








