پاکستان نے 2014 سے 2024 کے دوران تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی حاصل کی ہے، سروے رپورٹ

پاکستان نے 2014 سے 2024 کے دوران تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت اختیار کی گئی مؤثر پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے۔

اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):پاکستان نے 2014 سے 2024 کے دوران تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (ایف سی ٹی سی) کے تحت اختیار کی گئی مؤثر پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے۔ یہ تفصیلات گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے تازہ نتائج میں بیان کی گئیں جو حکومت پاکستان نے عالمی ادارۂ صحت اور سی ڈی سی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے مکمل کیا۔تاہم ملک میں اب بھی 15 سال یا اس سے زائد عمر کی 16.1 فیصد آبادی تمباکو مصنوعات استعمال کرتی ہے۔ تمباکو نوشی کے باعث پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں جبکہ اس سے معیشت کو 1,800 ارب روپے سے زائد (تقریباً 6.6 ارب امریکی ڈالر) کا نقصان پہنچتا ہے۔

گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024 کے نتائج آج عالمی یومِ انسداد تمباکو نوشی کی توسیعی تقریبات کے سلسلے میں پیش کیے گئے۔ یہ سرگرمیاں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی قیادت اور وژن کے مطابق منعقد ہوئیں۔ یہ سروے عالمی معیار کے سائنسی طریقہ کار کے تحت بالغ افراد میں تمباکو کے استعمال کی نگرانی کے لیے کیا گیا، جس کے ذریعے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اور 2014 کے نتائج کا تقابلی جائزہ فراہم کیا گیا۔ سروے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز ٹریننگ اینڈ ریسرچ نے وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے ٹوبیکو کنٹرول سیل اور عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے مکمل کیا۔ اس دوران 11 ہزار سے زائد افراد کے انٹرویوز کیے گئے اور مجموعی ردِعمل کی شرح 95.6 فیصد رہی۔یہ سروے ممالک کو تمباکو کنٹرول پروگراموں کی منصوبہ بندی، نفاذ اور جائزے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے تحت بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان نے اس کنونشن پر 2004 میں دستخط کیے تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ محمد اسلم غوری نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ انسداد تمباکو نوشی کا موضوع نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تمباکو اور نکوٹین کی صنعتوں کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ای سگریٹس، ویپنگ ڈیوائسز، ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات اور ڈیجیٹل اشتہارات نے تمباکو کی وبا ءکو مزید پیچیدہ عوامی صحت کے چیلنج میں تبدیل کر دیا ہے۔ ذائقہ دار مصنوعات، سوشل میڈیا کے اثرات اور نسبتاً محفوظ متبادل کے گمراہ کن تصورات کے ذریعے نوجوانوں کو ہدف بنانا فوری اور مربوط پالیسی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی تمباکو کے استعمال کے سنگین بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ GATS 2024 کے مطابق ملک میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد تمباکو مصنوعات استعمال کرتے ہیں جبکہ عوامی مقامات اور نوجوانوں میں سیکنڈ ہینڈ اسموک اور تمباکو اشتہارات کی نمائش اب بھی عام ہے۔اہم اعداد و شمار کے مطابق تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے باعث سالانہ تقریباً 1 لاکھ 63 ہزار 600 پاکستانی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

روزانہ اوسطاً 448 اموات تمباکو سے منسلک وجوہات کے باعث ہوتی ہیں۔ہر روز 6 سے 15 سال عمر کے تقریباً 1,200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ہر پانچ میں سے دو تمباکو نوش افراد 10 سال کی عمر سے پہلے کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سروے نتائج امید افزا ءبھی ہیں کیونکہ تمباکو استعمال کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد ترکِ تمباکو نوشی پر غور کر رہی ہے جبکہ عوام کی بڑی اکثریت تمباکو پر زیادہ ٹیکس، اشتہارات پر مزید پابندیوں اور ترکِ تمباکو خدمات کے فروغ جیسے مؤثر اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔محمد اسلم غوری نے کہا کہ وزارتِ قومی صحت اور حکومت پاکستان ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے مؤثر نفاذ کے لیے پُرعزم ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے تمباکو سے پاک، صحت مند مستقبل کی تعمیر پاکستان کی صحت، پیداواری صلاحیت اور خوشحالی میں سرمایہ کاری ہے۔

پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے کہا کہ GATS 2024 کے نتائج اس بات کی تصدق کرتے ہیں کہ بین الاقوامی تعاون اور مؤثر اقدامات، خصوصاً تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافہ اور نوجوانوں کو ہدف بنانے والے اشتہارات پر پابندی کے ذریعے ہم جانیں بچا سکتے ہیں۔ سائنسی شواہد بالکل واضح ہیں کہ تمباکو کی تمام مصنوعات مہلک ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت پاکستان کے ساتھ مل کر بچوں اور خاندانوں کو اس عوامی صحت کے خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے ہمیشہ کھڑا رہے گا۔سیکنڈ ہینڈ اسموک میں نمایاں کمی ہوئی ۔سروے کے مطابق 2014 سے 2024 کے درمیان سیکنڈ ہینڈ تمباکو دھوئیں کی نمائش میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔گھروں میں: 48.3 فیصد سے 28.8 فیصد،دفاتر میں: 69.1 فیصد سے 35.9 فیصد ،سرکاری عمارتوں میں: 64.6 فیصد سے 40.7 فیصد ،نجی عمارتوں میں: 77.3 فیصد سے 54.8 فیصد، صحت کے مراکز میں: 37.6 فیصد سے 24.5 فیصد،ریسٹورنٹس میں: 86.0 فیصد سے 55.2 فیصد ،شادی ہالز میں: 65.7 فیصد سے 50.3 فیصد، پبلک ٹرانسپورٹ میں: 76.2 فیصد سے 45.4 فیصد ،جامعات میں: 44.2 فیصد سے 33.3 فیصد ،اسکولوں میں: 25.1 فیصد سے 11.5 فیصد ،اس کے علاوہ دکانوں میں تمباکو اشتہارات یا تشہیری سرگرمیوں کی نمائش 20.4 فیصد سے کم ہو کر 17.8 فیصد رہ گئی جبکہ مجموعی طور پر تمباکو اشتہارات، تشہیر اور اسپانسرشپ کی نمائش 38.6 فیصد سے کم ہو کر 30.5 فیصد ہو گئی۔

تاہم سروے میں خواتین میں تمباکو کے استعمال میں معمولی اضافہ بھی سامنے آیا ہے، جہاں 15 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح 5.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح گزشتہ 12 ماہ کے دوران سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کرنے والوں کی شرح 24.7 فیصد سے کم ہو کر 24.1 فیصد اور صحت کے مراکز میں ترکِ تمباکو نوشی کا مشورہ حاصل کرنے والوں کی شرح 51.8 فیصد سے کم ہو کر 49.9 فیصد رہی۔ 2014 کے بعد پاکستان نے ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے تحت متعدد اہم اقدامات کرتے ہوئے مالی سال 2022-23 میں تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ۔

تمباکو مصنوعات کی پیکنگ پر بڑی تصویری صحتی تنبیہات ۔کھلی سگریٹ فروخت پر ملک گیر پابندی ۔نیشنل ٹوبیکو کنٹرول اسٹریٹیجی 2030-2022 کا نفاذ،صوبائی ٹوبیکو کنٹرول سیلز کا قیام ،عملدرآمد اور نگرانی کی کمیٹیوں کی تشکیل، سائنسی شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تمام تمباکو اور نکوٹین مصنوعات، بشمول قانونی و غیر قانونی مصنوعات، ای سگریٹس اور دیگر متبادل نکوٹین مصنوعات، صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتی ہیں۔تمباکو اپنے استعمال کرنے والوں میں سے نصف تک افراد کی جان لے سکتا ہے اگر وہ اسے ترک نہ کریں۔ یہ قابلِ تدارک اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور دل، پھیپھڑوں، فالج اور مختلف اقسام کے سرطان سمیت متعدد مہلک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

مزید خبریں