اسلام آباد ۔ 19 ستمبر (اے پی پی) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں گڈگورننس کو تب یقینی بنایاجاسکتاہے جب تمام ادارے مقررہ آئینی حدود میںکام کریں، اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قائد اعظم کے بیان کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہوگا بلکہ اس کا مقصد تمام پاکستانیوں کیلئے بلاتفریق یکساں اور مساوی حقوق تھا، ملک میں جاری دہشت …
آئین میں تمام اداروں کے فرائض اور دائرہ اختیار کی وضاحت کر دی گئی ہے، تمام اداروں پرلازم ہے کہ وہ اپنی مقررہ آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر سپریم کورٹ میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 ستمبر (اے پی پی) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں گڈگورننس کو تب یقینی بنایاجاسکتاہے جب تمام ادارے مقررہ آئینی حدود میںکام کریں، اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قائد اعظم کے بیان کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہوگا بلکہ اس کا مقصد تمام پاکستانیوں کیلئے بلاتفریق یکساں اور مساوی حقوق تھا، ملک میں جاری دہشت گردی کو کہیںسے اندرونی حمایت اور مدد حاصل ہے، بعض سیاسی جماعتیں بھی ذاتی مفادات کی خاطر ان عناصر کی حمایت کرتی ہیں جودہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ،کراچی اور بلوچستان کے حوالے سے بدامنی کے مقدمات کی سماعت کے دوران مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ساتھ بعض تخریبی عناصر کے روابط اور تعلقات سامنے آچکے جس کا فوری تدارک ہونا چاہیے۔ وہ پیرکو نئے عدالتی سال کے آغاز کے موقع پر سپریم کورٹ میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔








