انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ویسٹ انڈیز کے کرکٹر جاوون سیئرلز اور ٹیم آفیشلز چترنجن رٹھوڑ و ٹریون گریفتھ پر کرکٹ ویسٹ انڈیز اور آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ضابطوں کی مختلف خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔یہ الزامات بارباڈوس میں کھیلے گئے بِم 10 ٹورنامنٹ 2023/24 سے متعلق ہیں جو کرکٹ ویسٹ انڈیز کے انسدادِ بدعنوانی کوڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
آئی سی سی کے ویسٹ انڈیزکرکٹر جاوون سیئرلز، ٹیم آفیشلز چترنجن رٹھوڑ و ٹریون گریفتھ پر مختلف خلاف ورزیوں کے الزامات عائد
لاہور۔12مارچ (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ویسٹ انڈیز کے کرکٹر جاوون سیئرلز اور ٹیم آفیشلز چترنجن رٹھوڑ و ٹریون گریفتھ پر کرکٹ ویسٹ انڈیز اور آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ضابطوں کی مختلف خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔یہ الزامات بارباڈوس میں کھیلے گئے بِم 10 ٹورنامنٹ 2023/24 سے متعلق ہیں جو کرکٹ ویسٹ انڈیز کے انسدادِ بدعنوانی کوڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹریون گریفتھ پر بین الاقوامی میچز سے متعلق ایک اضافی الزام بھی عائد کیا گیا ہے جو آئی سی سی کے کوڈ کے تحت ہے۔چترنجن رٹھوڑ، جو ٹائٹنز ٹیم کے مالک ہیں، پر سی ڈبلیو آئی کوڈ کے تحت تین الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ جاوون سیئرلز کو چار الزامات کا سامنا ہے۔
ٹریون گریفتھ پر سی ڈبلیو آئی کوڈ کے تحت چار اور آئی سی سی کوڈ کے تحت ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔تینوں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹورنامنٹ کے میچوں کے نتائج، پیش رفت یا دیگر پہلوئوں کو غیرقانونی طور پر متاثر کرنے یا ایسا کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ ان پر کھلاڑیوں یا معاون عملے کو ضابطوں کی خلاف ورزی پر آمادہ کرنے اور ممکنہ بدعنوانی سے متعلق تحقیقات میں مکمل تعاون نہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔جاوون سیئرلز اور ٹریون گریفتھ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کرکٹ ویسٹ انڈیز کو ان رابطوں یا پیشکشوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جو انسدادِ بدعنوانی ضابطوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی تھیں۔
مزید برآں ٹریون گریفتھ پر آئی سی سی کے ضابطے کے تحت اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے، معلومات چھپانے یا ان میں ردوبدل کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ان تینوں افراد کو فوری طور پر ہر قسم کی کرکٹ سرگرمیوں سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور انہیں 11 مارچ 2026 سے 14 دن کے اندر ان الزامات کا جواب دینے کی مہلت دی گئی ہے۔یہ کارروائی اس وسیع تحقیقات کا حصہ ہے جس کے تحت28 جنوری کو امریکا کے کرکٹر ایرون جونز پر بھی کرکٹ ویسٹ انڈیز اور آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ضابطوں کی پانچ خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ تادیبی کارروائی مکمل ہونے تک اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔









