پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری ٹیم نے ایک یونٹ کے طور پر عمدہ کارکردگی دکھائی اور اسی محنت کا نتیجہ سیریز میں کامیابی کی صورت میں سامنے آیا
آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتنے پر پوری ٹیم نے ایک یونٹ کے طور پر عمدہ کارکردگی دکھائی، شاہین شاہ آفریدی

مزید خبریں
لاہور۔5جون (اے پی پی):پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری ٹیم نے ایک یونٹ کے طور پر عمدہ کارکردگی دکھائی اور اسی محنت کا نتیجہ سیریز میں کامیابی کی صورت میں سامنے آیا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ ہوم سیریز میں دنیا کی تمام ٹیمیں اپنی کنڈیشنز اور اپنی حکمت عملی کے مطابق پچز تیار کرتی ہیں۔ پاکستان نے بھی ایسی پچز بنائیں جن پر ٹیم کو فائدہ مل سکتا تھا کیونکہ ہمارا بنیادی ہدف سیریز جیتنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پچز بیٹنگ کے لیے آسان نہیں تھیں اور رنز بنانا کافی مشکل تھا، لیکن کھلاڑیوں نے حالات کے مطابق خود کو ڈھالا اور ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا۔ قومی کپتان نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے سیریز کے دوران کھلاڑیوں کو تسلسل کے ساتھ مواقع دینے کی پالیسی اپنائی، اسی وجہ سے ہر میچ میں غیر ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں تاکہ کھلاڑی اعتماد کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی کھلاڑی کو مسلسل موقع دیا جاتا ہے تو وہ بہتر نتائج دیتا ہے۔شاہین آفریدی نے آل رائونڈر کی کارکردگی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ شاداب پر تنقید اور سوالات اٹھائے جا رہے تھے، لیکن انہوں نے دبائو میں بہترین بولنگ کی۔ شاداب نے اپنی لائن اور لینتھ پر بہترین کنٹرول رکھا اور ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ کپتان کے مطابق ایسے مواقع پر تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔فاسٹ بولنگ کمبی نیشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں شاہین نے کہا کہ دو فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کی صورت میں حارث رئوف زیادہ موزوں انتخاب محسوس ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے تمام بولرز اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہے ہیں اور ہر کھلاڑی اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔سینئر کھلاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ انہیں بھی وقت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے میڈیا اور شائقین سے درخواست کی کہ کھلاڑیوں کو تھوڑا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنی فارم اور اعتماد بحال کر سکیں۔آئندہ آئی سی سی ورلڈ کپ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے محتاط رویہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابھی تقریبا 14 سے 15 ماہ باقی ہیں، اس لیے اس مرحلے پر کسی بڑی پیش گوئی یا دعوے کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم فی الحال اپنی کارکردگی میں بہتری، کمزوریوں کو دور کرنے اور ایک مضبوط کمبی نیشن بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔آخر میں قومی کپتان نے سیریز میں کامیابی کا سہرا پوری ٹیم، کوچنگ سٹاف اور شائقین کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں نے مشکل حالات میں بھرپور محنت کی اور اسی اجتماعی کوشش نے پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف سیریز جتوانے میں مدد دی۔








