اسلام آباد۔22مارچ (اے پی پی):عیدالفطر کے دوسرے روز اتوار کو وفاقی دارالحکومت کے تفریحی مقامات پر سیاحوں کا رش امڈ آیا، خاندانوں اور دوستوں نے عید الفطر کو یادگار بنانے کیلئے بڑی تعداد میں پارکوں اورتفریحی مقامات کا رخ کر لیا۔ شکرپڑیاں، لیک ویو پارک اور دامن کوہ سمیت مقبول تفریحی مقامات پر دن بھر رش رہا۔قبل ازیں دارالحکومت کی انتظامیہ نے عید کی تعطیلات کے دوران شہریوں کی سہولت …
اسلام آباد کے شہریوں نے عید کے دوسرے روز تفریحی کیلئے پارکوں کا رخ کرلیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22مارچ (اے پی پی):عیدالفطر کے دوسرے روز اتوار کو وفاقی دارالحکومت کے تفریحی مقامات پر سیاحوں کا رش امڈ آیا، خاندانوں اور دوستوں نے عید الفطر کو یادگار بنانے کیلئے بڑی تعداد میں پارکوں اورتفریحی مقامات کا رخ کر لیا۔ شکرپڑیاں، لیک ویو پارک اور دامن کوہ سمیت مقبول تفریحی مقامات پر دن بھر رش رہا۔قبل ازیں دارالحکومت کی انتظامیہ نے عید کی تعطیلات کے دوران شہریوں کی سہولت کے لیے ان مقامات کو 20 سے 23 مارچ کے دوران فیملی پارکس قرار دیا تھا۔ فاطمہ جناح پارک ایف۔9 میں بھی سیاحوں کی ایک بڑی آمد دیکھنے میں آئی، جو بہار کے خوشگوار موسم اور عید کے تہوار سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نظر آئے۔
تفریحی مقامات اور پارکس میں مختلف خاندانسایہ دار درختوں کے نیچے چٹائیاں بچھا کر جمع تھے جب کہ بچے کھیل کود میں مصروف نظر آئے ۔ بچوں کی معصوم مصروفیات نے ان لمحات کو یادگار بنا دیا۔ بہت سے لوگ بچوں کی ویڈیوز بھی بناتے رہے تاکہ ان لمحات کو محفوظ بنایا جا سکے۔کھانے پینے کے سٹالز اور دکانوں پر بھی رش رہا ۔لوگ مختلف قسم کے روایتی پکوان اور اسنیکس سے لطف اندوز ہوتے رہے اور عید کا تہوار مزیدار ذائقہ بن گیا۔ بہت سے سیاحوں ن پارکس اور تفریحی مقامات پر موجود سٹالز سے کھانے پینے کی اشیا خریدتے رہے جبکہ کچھ خاندان گھر سے کھانا تیار کر کے لائے تھے جس سے عید کی تفریحی مصروفیات دوبالا ہو گئیں۔
عید کے دوسرے دن للوگوں کی بڑی تعداد عزیزوں ، دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے بھی پہنچ گئی ۔ بہت سے لوگوں نے پرانے جاننے والوں سے بھی رابطہ کیا، فون کالزکیں اور عید کی مبارکباد کا تبادلہ کیا۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے لیک ویو پارک میں آئے ایک سیاح عتیق نے کہا کہ عید صرف جشن منانے سے ہی متعلق نہیں ہے بلکہ اپنے پیاروں سے دوبارہ جڑنے کا بھی نام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم صبح اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے اور پھر خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے یہاں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سیر و تفریح عید کو مزید خوشگوار اور یادگار بناتی ہے۔
ایک گھریلو خاتون انم نے بتایا کہ میں نے صبح اپنے گھر پر رشتہ داروں اور دوستوں کی میزبانی میں گزاری۔ میں نے اپنے مہمانوں کے لیے شیر خرما اور دیگر روایتی پکوان تیار کیے تھے۔ بعد میں، ہم پارک آگئے تاکہ بچے کھلے آسمان کی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عید خاندانی روایات سے جڑی ہےاور بچے خاص طور پر بزرگوں سے ملنے والی عیدی کو تفریحی سرگرمیوں اور اپنی پسند کے کھانے پینے کی اشیا پر خرچ کرنے کے منتظر ہیں۔
کئی دیگر سیاحوں نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ عوامی پارکس خاندانوں کو ایک ساتھ عید منانے کے لیے ایک سستی اور لطف اندوز سہولت فراہم کرتے ہیں۔ جہاں پر نوجوانوں کو مختلف سواریوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا جب کہ بزرگ آرام دہ ماحول میں سماجی، جاندار اور جامع تہوار ک کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس نے بڑے تفریحی مقامات پر سکیورٹی کے جامع انتظامات کیے ہیں تاکہ سیاحوں کے لیے ایک محفوظ اور بہترین تجربہ کو یقینی بنایا جا سکے۔
سکیورٹی اہلکاروں کو داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کیا گیا تھا جبکہ عوام کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے نگرانی کے اقدامات بھی نظر آئے۔ اس موقع پر مختلف خیراتی تنظیموں نے غریبوں میں کھانا اور کپڑے تقسیم کر کے عید کے تہوار کی روح کو برقرار رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ عید کی خوشی معاشرہ کے تمام طبقات کو میسر ہو سکے۔ عید کے دوسرے دن قہقہوں، اجتماعات اور مشترکہ کھانوں کے ساتھ پورے دارالحکومت میں تہوار کا سماں نمایاں رہا جو باہمی بھائی چارہ اور خوشی کے بندھن کی عکاسی کرتا ہے۔








