اسلام آباد ۔ 19 ستمبر (اے پی پی) وفاقی حکومت ریلویز کے شعبے کو رواں مالی سال کے بجٹ میں خصوصی اہمیت دے رہی ہے تاکہ اس کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف میں مدد حاصل کی جاسکے، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ریلویز صوبہ پنجاب میں 30 فیصد، صوبہ سندھ میں 18 فیصد، بلوچستان میں 36 فیصد، خیبر پختونخوا میں …
اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پنجاب میں 30 ، سندھ میں 18 ، بلوچستان میں 36 ، خیبر پختونخوا میں 9 ، گلگت بلتستان میں 6 ، فاٹا میں 1 فیصد نئے ریلوے ٹریکس بچھائیں جائیں گے ، 3 ارب 69 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی، پلاننگ کمیشن

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 ستمبر (اے پی پی) وفاقی حکومت ریلویز کے شعبے کو رواں مالی سال کے بجٹ میں خصوصی اہمیت دے رہی ہے تاکہ اس کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف میں مدد حاصل کی جاسکے، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ریلویز صوبہ پنجاب میں 30 فیصد، صوبہ سندھ میں 18 فیصد، بلوچستان میں 36 فیصد، خیبر پختونخوا میں 9 فیصد، گلگت بلتستان میں 6 فیصد اور فاٹا میں 1 فیصد نئے ریلوے ٹریکس بچھائے جائیں گے جن پر 3 ارب 69 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔ پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق سی پیک منصوبوں کے تحت ایک ہزار 59 کلومیٹر حویلیاں ۔ کاشی نیو ریلوے ٹرےک، پشاور سے طورخم تک نئی ریلوے لائن کی تعمیر، حویلیاں ڈرائی پورٹ، کراچی سے کوٹری ڈبل لائن کی تعمیر، 16 سو کلومیٹر کراچی سے پشاور تیز رفتار ریلوے لائن منصوبہ، کوئٹہ ۔560 کلومیٹر ژوب،کوٹلہ جام نئی ریلوے لائن کی تعمیر ،633 کلومیٹر کوئٹہ۔ تفتان لائن کی اپ گریڈیشن، 1328 کلومیٹر گوادر۔ جیکب آباد تک نئی ریلوے لائن سمیت شامل ہیں۔








