اقوامِ متحدہ کی جی ڈی پی سے آگے ترقی جانچنے کے لیے نئے عالمی نظام کی تجویز
اقوامِ متحدہ کی جی ڈی پی سے آگے ترقی جانچنے کے لیے نئے عالمی نظام کی تجویز
اقوام متحدہ ۔8مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں ترقی کی پیمائش کے لیے ایک نیا عالمی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کا مقصد صرف مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) پر انحصار کم کرکے انسانی فلاح، مساوات اور ماحولیات جیسے عوامل کو بھی شامل کرنا ہے۔شنہوا کے مطابق یہ تجویز “کاؤنٹنگ واٹ کاؤنٹس: اے کمپاس آف پروگریس فار پیپل اینڈ پلانیٹ” کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں پیش کی گئی، جسے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے آزاد ہائی لیول ایکسپرٹ گروپ آن بیونڈ جی ڈی پی نے تیار کیا ہے۔
رپورٹ میں 31 عالمی اشاریوں پر مشتمل ایک نیا “ڈیش بورڈ” متعارف کرایا گیا ہے، جو معاشی، سماجی اور ماحولیاتی ترقی کی جامع تصویر پیش کرے گا۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتو نیو گوتریش نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہجی ڈی پی معاشی ترقی کی اہم پیمائش ضرور ہے، لیکن اسے واحد معیار نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ رپورٹ ترقی کی پیمائش میں موجود ایک بڑے خلا کو دور کرنے کی کوشش ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیرباک نے کہا کہ نئے اشاریے ممالک کو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی بہبود، ماحولیاتی تحفظ، بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور مساوات جیسے شعبوں میں بھی اپنی کارکردگی جانچنے میں مدد دیں گے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ نیا ڈیش بورڈ موجودہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے اشاریاتی نظام کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور حکومتیں اسے فوری طور پر اپنی پالیسی سازی میں استعمال کرسکیں گی۔









