نیویارک ۔22دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے معاشی بحران کے شکار ملک افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک قرارداد کی منظور ی دیدی ہے،قرارداد کے مطابق رقوم کی ادائیگی، دیگر مالی اثاثے یا معاشی وسائل اور اس طرح کی معاونت کی وقت پر فراہمی کی اجازت ہے،یہ معاونت افغانستان میں بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے ہے اور یہ طالبان کے ساتھ منسلک چیزوں …
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی کے لیے قرارداد کی منظور ی،رقوم کی ادائیگی، دیگر مالی اثاثے ، معاشی وسائل اورمتعلقہ معاونت کی فراہمی کی اجازت امریکہ کی جانب سے طالبان پر پابندیاں ہٹانے کےلیے اضافی اقدامات

مزید خبریں
نیویارک ۔22دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے معاشی بحران کے شکار ملک افغانستان کو انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک قرارداد کی منظور ی دیدی ہے،قرارداد کے مطابق رقوم کی ادائیگی، دیگر مالی اثاثے یا معاشی وسائل اور اس طرح کی معاونت کی وقت پر فراہمی کی اجازت ہے،یہ معاونت افغانستان میں بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے ہے اور یہ طالبان کے ساتھ منسلک چیزوں پر پابندی کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بدھ کے روز متفقہ طور پر ایک امریکی تجویز کردہ قرارداد کو منظور کر لیا گیا ہے جس میں انسانی امداد کو ضرورت مند افغانوں تک پہنچانے میں مدد کی جائے گی۔ افغانستان میں معاشی بدحالی کے دوران انسانی زندگیوں کی تباہی کو کیسے روکا جائے کے حوالے سے اس قرارداد کی منظوری کئی مہینوں کی تگ و دو کے بعد اقوام متحدہ کا افغانستان میں انسانی امداد کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے جسے طالبان نے ایک "اچھےا قدام” کے طور پر خوش آمدید کہا ہے۔
سلامتی کونسل کی مذکورہ قرارداد طالبان کو تنہا کرنے کے لیے عائد بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کیے بغیر ایک سال تک افغانستان میں امداد کی ترسیل کی اجازت دیتی ہے ۔ طالبان کے ترجمان ذبیج اللہ مجاہد نے سلامتی کونسل میں امریکی تجویز کردہ قرارداد کی منظوری کو سراہتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس سے افغانستان کی معاشی صورتحال میں بہتری میں مدد مل سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس اقدام سے گروپ سے منسلک اداروں پر عائد اقتصادی اور بینکنگ پابندیوں کو بھی ہٹانے میں مدد ملے گی۔
تاہم اقوام متحدہ کے امریکی نائب سفیر جیفری ڈی لارینٹس نے طالبان کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ ممکنہ امداد کسی بھی تنظیم کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کے لیے ’بلینک چیک‘نہیں ہے۔اے ایف پی کے مطابق بدھ کو امریکہ نے طالبان پر پابندیاں ہٹانے کےلیے اضافی اقدامات کیے ہیں تاکہ امدادی گروپ افغان عوام کی مدد کر سکیں۔
امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اشیا کی برآمدات اور کیش ٹرانسفر کی اس وقت تک اجازت ہے کہ جب تک یہ ایسے افراد کے ہاتھ نہیں لگتا جن پر پابندی ہے۔وزارت خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ حالیہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قرارداد پر عمل درآمد کروانے میں بھی مدد کریں گے۔امریکی وزارت خزانہ کے ڈپٹی سیکرٹری ویلے ادیمیو نے کہا کہ ہم افغان عوام کی مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ وزارت خزانہ نے معاونت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں۔








