اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات ضروری، نئے تکنیکی خطرات بڑھ گئے ہیں، عاصم افتخا ر احمد

اقوام متحدہ ۔26فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دنیا کے سب سے بڑے فوجی شراکت داروں میں شامل پاکستان نے امن فوجیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخا ر احمد نے کہا کہ دشمن عناصر کی جانب سے ڈرونز اور دیگر جدید آلات کے استعمال نے خطرے کے ماحول کو بدل …

اقوام متحدہ ۔26فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے امن مشنز میں دنیا کے سب سے بڑے فوجی شراکت داروں میں شامل پاکستان نے امن فوجیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخا ر احمد نے کہا کہ دشمن عناصر کی جانب سے ڈرونز اور دیگر جدید آلات کے استعمال نے خطرے کے ماحول کو بدل دیا ہے۔

انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ امن فوجیوں کےلئے ماحول پیچیدہ، غیر مستحکم اور مہلک بنتا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ردعمل بھی اسی مطابق، مربوط اور اجتماعی ہونا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے مختلف مشنز میں پاکستان کے اب تک 182 امن فوجی شہید ہوچکے ہیں اور مختلف مشنز جن میں جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، کانگو اور لبنان و اسرائیل کی سرحد پرامن فوجی اہلکار موجود ہیں ، کے لئے سلامتی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کادُگلی میں حالیہ ڈرون حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں 6 بنگلہ دیشی امن فوجی ہلاک ہوئے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال غیر ریاستی عناصر کر رہے ہیں جس سے حملہ آوروں کی شناخت اور جوابدہی مشکل ہو جاتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجیزخطرات کو بڑھاتی ہیں لیکن یہ حل کا حصہ بھی ہیں۔ اس ضمن میں غیرمسلح فضائی نظام (Counter-UAS) کی صلاحیتیں، بہتر الرٹ سسٹمز، جدید نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی خطرے کا تجزیہ امن فوجیوں کی حفاظت کے لیے لازمی ہیں۔

پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ حفاظت اور سلامتی کا اصول یہ ہونا چاہیے کہ مشنز کے مینڈیٹ کو ضروری صلاحیتوں اور وسائل کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ تخفظ اور سکیورٹی کا آغاز ایک سادہ اصول سے ہونا چاہیے جس میں مینڈیٹ کو ضروری صلاحیتوں اور وسائل کے ساتھ ملایا جانا چاہیے۔

 

مزید خبریں