امریکی سپرنٹر شا کیری رچرڈسن نے دس میٹر کے ہینڈی کیپ کے باوجود آسٹریلیا کے تاریخی سٹاول گفٹ ریس میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی اور میدان کے آخری حصے سے جیتنے والی تیسری خاتون ایتھلیٹ بن گئیں۔
امریکی ایتھلیٹ شا کیری رچرڈسن نے آسٹریلیا کی تاریخی سٹاول گفٹ ریس جیت کر تاریخ رقم کر دی

مزید خبریں
میلبورن۔6اپریل (اے پی پی):امریکی سپرنٹر شا کیری رچرڈسن نے دس میٹر کے ہینڈی کیپ کے باوجود آسٹریلیا کے تاریخی سٹاول گفٹ ریس میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی اور میدان کے آخری حصے سے جیتنے والی تیسری خاتون ایتھلیٹ بن گئیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس منفرد مقابلے میں کھلاڑیوں کو ان کی کارکردگی اور صلاحیت کے مطابق ہینڈی کیپ دیا جاتا ہے تاہم اولمپک ایک سو میٹر کی چاندی کا تمغہ جیتنے والی شاکیری رچرڈسن نےسکریچ پوزیشن سے دوڑ کا آغاز کیا، جس کا مطلب تھا کہ انہیں مکمل 120 میٹر دوڑنا اور تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑنا تھا۔26 سالہ رچرڈسن نے فائنل میں 13.08 سیکنڈ کا شاندار وقت ریکارڈ کیا، جو 148سالہ تاریخ کے دوران دوڑ کی خواتین ایتھلیٹ کا تیز ترین وقت بھی ثابت ہوا۔شاکیری رچرڈسن نے آخری لمحات میں 19 سالہ آسٹریلوی ایتھلیٹ شارلٹ نیلسن کو پیچھے چھوڑا، جنہیں 9 میٹر کی سبقت حاصل تھی اور 40 ہزار آسٹریلوی ڈالر کا انعام اپنے نام کیا۔
دوڑ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شاکیری رچرڈسن کا کہنا تھا کہ انہیں 90 میٹر کے بعد ہی اپنی کامیابی کا یقین ہو گیا تھا۔ انہوں نے اس مقابلے کو اپنی زندگی کے سب سے دلچسپ اور یادگار ایونٹس میں سے ایک قرار دیا۔تین روزہ اس مقابلے میں 700 سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی جبکہ مجموعی انعامی رقم ایک لاکھ پچپن ہزار آسٹریلوی ڈالر رکھی گئی تھی۔واضح رہے کہ سٹاول گفٹ کا آغاز 1878 میں ہوا تھا اور اس میں دنیا کے نامور ایتھلیٹس شرکت کرتے رہے ہیں۔دریں اثنا مردوں کے مقابلے میں 21 سالہ آسٹریلوی کھلاڑی اولوفیمی کومولافے نے گیارہ اعشاریہ ترانوے سیکنڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ امریکہ کے کرسچین کولمین سیمی فائنل مرحلے میں ہی باہر ہو گئے۔








