انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران خان کا سوشل میڈیا اور اخبارات میں زیرِ گردش خبر کے حوالے سے وضاحتی موقف

انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران خان نے وضاحت کی ہے کہ زیرِ گردش خبر میں مذکور بچے کو مائلڈ ہائپوسپیڈیاس کی شکایت ہے، جو پیشاب کی نالی کی ایک پیدائشی کیفیت ہے، اور اس حوالے سے حقائق کو درست تناظر میں پیش کیا جانا چاہیے۔

پشاور۔ 11 جولائی (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران خان نے سوشل میڈیا اور اخبارات میں زیرِ گردش خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ بچے کو مائلڈ ہائپوسپیڈیاس کی شکایت ہے جس میں پیشاب کی نالی کا سوراخ اپنی معمول کی جگہ سے قدرے نیچے ہوتا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ اس نوعیت کے کیس میں مریض کی مکمل طبی کیفیت اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مائلڈ ہائپوسپیڈیاس کی سرجری عموماً اصلاحی اور کاسمیٹک نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ نہ تو جان لیوا بیماری ہے اور نہ ہی ایسی ہنگامی حالت جس سے مریض کی زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہو۔ ڈاکٹر کامران خان کے مطابق ہسپتال میں تمام مریضوں کو ان کی بیماری کی نوعیت، شدت اور فوری طبی ضرورت کے مطابق ترجیح دی جاتی ہے۔ کینسر، ٹیومر، گردے کی شدید رکاوٹ اور دیگر ہنگامی امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج اور آپریشن فوری بنیادوں پر کیا جاتا ہے، جبکہ غیر ہنگامی اور مستحکم مریضوں کو دستیاب وسائل اور آپریشن تھیٹر کی گنجائش کے مطابق تاریخ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریضوں کو عموماً ایک ہفتے سے دس دن کے اندر آپریشن کا وقت دیا جاتا ہے، جبکہ پتھری اور دیگر غیر ہنگامی کیسز میں انتظار کا دورانیہ نسبتاً زیادہ ہوسکتا ہے۔مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ہر مریض کا فوری آپریشن ممکن نہیں ہوتا، اس لیے طبی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے شیڈول مرتب کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کامران خان نے واضح کیا کہ مذکورہ بچے کی سرجری میں مناسب تاخیر سے اس کی جان یا صحت کو فوری خطرہ نہیں، تاہم مریض ہسپتال کے زیرِ نگرانی ہے اور اسے طبی ترجیح اور دستیاب سہولت کے مطابق علاج کی تاریخ دی جائے گی۔ ہسپتال انتظامیہ مریضوں کو شفاف، منصفانہ اور طبی اصولوں کے مطابق علاج کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔