اکتوبر کے دوران چین کو پاکستان کی برآمدات میں 70 فیصد اضافہ ہوا ، بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے کمرشل قونصلر غلام قادر کی اے پی پی سے گفتگو

بیجنگ۔22نومبر (اے پی پی):بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے کمرشل قونصلر غلام قادر نے کہا ہے کہ اکتوبر کے دوران چین کو پاکستان کی برآمدات میں 70 فیصد اضافہ ہوا ۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کو پاکستان کی برآمدات رواں سال اکتوبر میں 368 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ہے۔انہوں …

بیجنگ۔22نومبر (اے پی پی):بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے کمرشل قونصلر غلام قادر نے کہا ہے کہ اکتوبر کے دوران چین کو پاکستان کی برآمدات میں 70 فیصد اضافہ ہوا ۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کو پاکستان کی برآمدات رواں سال اکتوبر میں 368 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ کے دوران پاکستان کی طرف سے چین کو برآمد کی جانے والی اہم مصنوعات میں تل، سمندری غذا، چاول اور دیگر زرعی مصنوعات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں یہ اضافہ رواں سال کراچی میں ہونے والی فوڈ اینڈ ایگری ایکسپو میں 200 سے زائد چینی تاجروں کی شرکت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے چینی تاجروں اور پاکستانی تاجروں کے ساتھ کئی ملاقاتوں کا اہتمام کیا اور ہمیں مزید مثبت نتائج کے لیے اس پر کام جاری رکھنا چاہیے۔

چین کو پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کو مزید بڑھانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد ہی چینی مارکیٹ میں گوشت کی برآمد شروع کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیری مصنوعات، مرچ، چیری اور تل کے بیجوں میں ویلیو ایڈیشن کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور ہم تل کے بیج کو تل کے تیل اور ضمنی مصنوعات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں کام جاری ہے۔غلام قادر نے کہا کہ خوراک اور زراعت کے حوالے سے پاکستان چین کو برآمدات میں اضافے کے لئے پرامید ہے۔اسی طرح، ٹیکسٹائل اور دیگر پالتو جانوروں کی برآمدات کے لیے، ہم ای کامرس اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے چین میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مزید موجودگی پر اپنی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تانبا بھی چین کو سب سے بڑی برآمدات میں سے ایک ہے اور حکومت ہمارے تانبے کو ویلیو ایڈڈ کاپر میں تبدیل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔مختلف شعبوں میں چینی تعاون اور سرمایہ کاری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت خوراک اور زراعت میں سرمایہ کاری کی توقع رکھتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ چینی سرمایہ کار 30 بلین ڈالر کی مارکیٹ سے بہترین استفادہ کریں۔ ا س عمل کو زیادہ سرمایہ کاری، زیادہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور زیادہ چینی خصوصیات کے ساتھ بہتر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے

انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ چینی کاروباری ادارے پاکستان آئیں اور ٹیکسٹائل، جوتے، کھلونے، زراعت ،الیکٹرانکس، لائٹ انجینئرنگ اور کنزیومر مصنوعات میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاپر پراسیسنگ پلانٹ کے قیام پر بھی توجہ دے رہی ہے جس کے لیے چینی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا جائے گا۔