اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پی ایس ایکس کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس کی شرعی اسکریننگ کا نظرثانی شدہ معیار اور طریقۂ کار جاری کر دیا ہے۔ انڈیکس کی اسکرینگ میں ترامیم شریعہ کمپلائنٹ انڈیکس کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور شریعہ کمپلائنٹ حصص پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔جمعرات کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان …
ایس ای سی پی نے PSX-KMI آل شیئر انڈیکس کی شرعی اسکریننگ کے طریق کار پر نظرثانی کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے پی ایس ایکس کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس کی شرعی اسکریننگ کا نظرثانی شدہ معیار اور طریقۂ کار جاری کر دیا ہے۔ انڈیکس کی اسکرینگ میں ترامیم شریعہ کمپلائنٹ انڈیکس کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور شریعہ کمپلائنٹ حصص پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔جمعرات کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو سود سے پاک (ربا فری) فریم ورک کی جانب منتقل کرنے کے لیے جاری اصلاحات کا تسلسل ہے۔
اس سلسلے میں وزارت خزانہ میں فنانشل سیکٹر سٹریٹجی سے متعلق کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا جس کی صدارت سیکریٹری خزانہ نے کی۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت کے دسمبر 2027 تک پاکستان کو ربا فری بنانے کے اقدامات پر عملدرآمد تیز کرنے اور آئندہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت خزانہ نے ایس ای سی پی کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے زیر نگرانی مالیاتی سیکٹر کو شرعی ماڈلز میں تبدیل کرنے اور بعد ازاں اس تبدیلی کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے ۔وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور آئین کے آرٹیکل 38(1)(ف) سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم ، جس کے مطابق دسمبر 2027 تک پاکستان کے تمام مالیاتی نظام سے مرحلہ وار انداز میں سود (ربا) کا خاتمہ کیا جانا ہے۔
شریقہ کمپلائنٹ ال انڈیکس کے نظرثانی شدہ فریم ورک سے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے فیصلوں میں سہولت، اور لسٹڈ کمپنیوں کو بتدریج شریعہ کمپلائنٹ کیے جانے میں مدد ملے گی۔ انڈیکس کی اسکرینگ کے نئے معیار کے مطابق کمپنی کے غیر شرعی قرضوں کا کل تناسب 37 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد کر دیا گیا ہے، جو شرعی مالیاتی سہولتوں کی بڑھتی ہوئی دستیابی اور عالمی طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے۔
مزید برآں، شرعی مطابقت کی درجہ بندی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اہل کمپنیوں کو تھری ، فور یا فائیوسٹار کی درجہ بندی دی جائے گی، تاکہ شفافیت بڑھے اور سرمایہ کار مختلف سطح کی مطابقت کا جائزہ لے سکیں۔پی ایس ایکس کے ایم آئی آل شیئر انڈیکس کے شرعی طور پر مطابقت رکھنے والی کمپنیوں کی فہرست کے لیے پانچ دن دیے جائیں گے جن میں کے دوران شراکت دار شواہد پر مبنی نظرثانی کی درخواستیں جمع کرائی جا سکیں گی۔
نئی لسٹڈ کمپنیوں کی عبوری شمولیت کے لیے بھی ایک طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے، جو شرعی اسکریننگ اور کے ایم آئی انڈیکس کمیٹی کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ایس ای سی پی نے پی ایس ایکس کو سفارش کی ہے کہ غیر شرعی سرمایہ کاری کا کل اثاثوں سے تناسب 33 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کردیا جائے اور اسلامی انڈیکسز کو سہ ماہی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کرنے، اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کو ڈیجیٹل بنایا جائے۔شرعی گورننس ریگولیشنز کے تحت شریعہ کمپلائنٹ سیکیورٹیز کی اسکریننگ کے طریقۂ کار کے لیے ایس ای سی پی کی منظوری ضروری ہے۔








