این ای او سی نےبنوں میں پولیو کے نئے کیس کی تصدیق کر دی

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے ضلع بنوں، جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے۔

اسلام آباد۔14ستمبر (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو (این ای او سی) نے ضلع بنوں، جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو کے ایک نئے کیس کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے۔

این ای او سی سے جاری بیان کے مطابق حکومت کی زیرِ قیادت انسدادِ پولیو پروگرام نے تمام والدین اور نگہداشت کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ 21 تا 27 ستمبر تک جاری رہنے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور آئندہ ہر مہم میں بھی بچوں کی ویکسی نیشن یقینی بنائیں۔این ای او سی کے مطابق رواں سال رپورٹ ہونے والے چار میں سے تین پولیو کیسز بنوں ڈویژن سے سامنے آئے ہیں، جہاں سکیورٹی سے متعلق رسائی کی مشکلات کے باعث متعدد بچے ضروری ویکسینیشن سے محروم رہ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں جنوبی خیبرپختونخوا میں وائلڈ پولیو وائرس کی گردش بدستور جاری ہے۔

نئے کیس کا تعلق تحصیل میریان کے نُرار یونین کونسل سے ہے، جہاں سکیورٹی کی صورتحال کے باعث 2025 سے ویکسینیشن ٹیمیں بچوں تک مستقل بنیادوں پر رسائی حاصل نہیں کر سکیں۔حکام کے مطابق محفوظ اور موثر پولیو ویکسین کی بدولت پاکستان میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسزکے مقابلے میں 2025 میں 31 کیس رپورٹ ہوئے۔

رواں سال اب تک چار کیس سامنے آئے ہیں، جن میں زیادہ تر جنوبی خیبرپختونخوا سے ہیں۔ ملک بھر میں پولیو وائرس کی مجموعی منتقلی میں 2025 کے مقابلے میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی خیبرپختونخوا میں وائرس کی منتقلی بدستور ایک چیلنج ہے۔نیشنل ای او سی نے کہا کہ نیا کیس اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ملک بھر میں موثر نگرانی اور ویکسی نیشن کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا جائے، کیونکہ جب تک ہر بچے کو پولیو سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، کوئی بھی بچہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔پولیو ایک انتہائی متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو زندگی بھر کے لیے فالج کا سبب بن سکتی ہے اور بعض صورتوں میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

تاہم محفوظ اور موثر پولیو ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔ یہ ویکسین دنیا کے 195 ممالک، بشمول تمام مسلم اکثریتی ممالک میں محفوظ طریقے سے استعمال کی جا رہی ہے۔پاکستان میں 2026 کے دوران اب تک تین بڑی انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جن کے ذریعے چار کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، جبکہ ہائی رسک علاقوں میں ٹارگٹڈ زبانی اور انجیکشن کے ذریعے ویکسی نیشن مہمات بھی جاری رہیں۔ملک گیر انسدادِ پولیو مہم 21 تا 27 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کا ہدف تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔

جنوبی خیبرپختونخوا کے بچے بھی اس مہم کا خصوصی حصہ ہوں گے۔نیشنل ای او سی نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ فرنٹ لائن پولیو ورکرز بچوں تک ویکسین پہنچانے کے لیے ان کی دہلیز پر جا رہے ہیں، جبکہ والدین اور نگہداشت کرنے والوں کا کردار انتہائی اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کی تمام تجویز کردہ خوراکیں، بشمول معمول کی حفاظتی ویکسی نیشن، لازماً دلوائیں۔حکام نے کہا کہ معاشرے، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا کو بھی ویکسی نیشن کے فروغ، غلط معلومات کے تدارک اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ متحدہ کوششوں سے پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنایا جا سکتا ہے اور ہر خاندان کے لیے ایک محفوظ، صحت مند اور پولیو فری مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔