اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ بھارتی آبدوز کے پاکستانی حدود میں داخلے کے معاملہ پر اعتماد میں لے، امن کی بات کرتے ہوئے ڈپلومیسی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے، پارلیمنٹری ڈپلومیسی کو بھی استعمال میں لایا جائے۔ بدھ کو ایوان بالا میں سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے بھارتی …
ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کااظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ بھارتی آبدوز کے پاکستانی حدود میں داخلے کے معاملہ پر اعتماد میں لے، امن کی بات کرتے ہوئے ڈپلومیسی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے، پارلیمنٹری ڈپلومیسی کو بھی استعمال میں لایا جائے۔ بدھ کو ایوان بالا میں سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے بھارتی آبدوز کی پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہونے کے حوالے سے تحریک پر ایوان بالا میں بحث کی گئی۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان نے بار بار امن کی بات کی ہے لیکن امن کی بات کرتے ہوئے ڈپلومیسی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے، کشمیر کا مسئلہ 70 سال سے چل رہا ہے اور وہیں کا وہیں ہے، مودی کے رویے کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ دنیا میں اجاگر ہوا ہے، بھارتی پائلٹ کے جواب میں پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی لاش ملی، ریاست نے اپنے شہری کے تحفظ کے لئے کیا کیا، اب بھارتی آبدوز والا واقعہ ہوا ہے، وزارت خارجہ اس پر خاموش ہے، ہمیں بھارتی آبدوز کے معاملے پر اعتماد میں لیا جائے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ مودی سرکار نے جو الفاظ استعمال کئے آج تک ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں، کچھ روز قبل بالا کوٹ کا واقعہ ہوا پھر پاکستان نے بھرپور جواب دیا، وزیر صاحب بتائیں کہ پاکستان کی سمندری، فضائی، زمینی حدود کی خلاف ورزی ہو تو اس بارے میں کون فیصلہ کر سکتا ہے، پاکستان کے سیاستدانوں اور حکومت نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، میڈیا نے بھی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، بھارت کی طرف سے آئندہ بھی اس قسم کی حرکت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے معاملات کے بارے میں جو بھی اچھی پیشرفت ہوئی ہے اس میں سینٹ کا بڑا کردار ہے، پلوامہ واقعہ کے بعد او آئی سی کے بارے میں رضا ربانی نے توجہ دلوائی کہ بھارت یکطرفہ طور پر جنگی صورتحال بنا رہا ہے، انڈیا ہم سے بڑا ملک ہے، ہمیں محب وطن کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے، ہم کہتے ہیں کہ پارلیمنٹری ڈپلومیسی ہو، انڈیا پروپیگنڈے کی چھوٹی بڑی مشینری ایکٹو ہے، ان کا ایئر فورس کا جوان اٹیک کرنے آیا پاکستان نے چھوڑا، وہاں سے شاکر اللہ کی لاش آئی ہے، ہمارے ماہی گیر جو احمد آباد، گجرات کی جیلوں میں ہیں، بہت سے ماہی گیر پوچھتے ہیں کہ ہمارے قیدی کہاں ہیں، بھارتی سمندری آبدوز نے پاکستان کی سمندری حدود میں گھسنے کی کوشش کی پاکستان نیوی نے اسے ناکام بنایا، حکومت کے اچھے اقدام کو سب سے زیادہ سینٹ میں سراہا گیا ہے، مودی سرکار انتہا پسندی پھیلا رہی ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ بار بار کہنے کی ضرورت نہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں اس نے مکمل حمایت کی۔ بھارت کے اسٹریٹجک پارٹنرز سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارت کو پولیس مین بنانا چاہتے ہیں، بھارت اسرائیل سے سیکھتے ہوئے کشمیر میں کارروائیاں کر رہا ہے، پہلے بھارت کے جہازوں نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی، سمندری حدود کی بھی خلاف ورزی کی، بھارت کی جانب سے بھی اشتعال انگیزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس کے بعد یو اے ای کا وزیر خارجہ پریس کانفرنس کر کے کہتا ہے کہ بھارت او آئی سی کا ممبر بن سکتا ہے، لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پارلیمان کی مشترکہ کمیٹی بنائی جائے اور اس کا جائزہ لے، ماہرین اور سٹیک ہولڈرز کو بلا کر ایک پالیسی مرتب کرے، صورتحال جس سمت میں جا رہی ہے وہ خطرناک ہے۔ امریکی سفارتخانہ اس بیان کو قبول کرتا ہے کہ امریکہ اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ایف سولہ جہاز بھارت کے خلاف استعمال ہوئے ہیں یا نہیں، کہیں ان کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔ ایف سولہ طیارے ہم نے اچار یا مربہ ڈالنے کے لئے نہیں خریدے، اپنے دفاع کے لئے حاصل کئے ہیں۔ سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کو دباﺅ میں لانا چاہتا ہے، بھارت کی حکمت عملی سب کے سامنے ہے، بالاکوٹ کے حملے کے بارے میں بھی اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، بھارت نے ہمارے ایک شہری کا برا حال کر کے پاکستان بھیجا، ہم خاموش رہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ دو واقعات ہوئے، ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی، ہم یو این او کے ممبر ہیں، ہمیں جوابدہ بنایا جا رہا ہے، یو این او میں بھی ہمیں ہی جوابدہ سمجھا جا رہا ہے۔ ہم سیکورٹی کونسل میں اپنا مقدمہ کیوں نہیں پیش کرتے۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ انتہا پسندی ہمارے ملک سمیت دنیا بھر میں ہے، بھارت میں بھی ہے، بھارت کے اندر انتہا پسندی مودی کی شکل میں حکومت کے اندر موجود ہے، میں حےران ہوں کہ دنیا ہمیں کہتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہو رہا، نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہو رہا ہے، کراچی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، کروڑوں سموں کو قانونی شکل دی گئی ہے، بھارت میں انتہا پسندوں کی حکومت ہے، مودی سے جب کہا گیا کہ وہ معافی مانگیں تو انہوں نے معافی نہیں مانگی۔ بھارت کی طرف سے جو ڈوزیئر بھیجا گیا ہے اس کی ایماء پر ہم لوگوں کو گرفت میں نہیں لا سکتے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جارحیت پر اسے بھرپور جواب دینے پر ہم اپنی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں اخبارات سے معلومات حاصل ہوتی ہیں اور پھر ہم انہی اخباری معلومات کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں بات کرتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے، حکومت کو پارلیمنٹیرینز کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ بھارت نے ایل او سی، فضائی اور سمندری حدود کی خلاف ورزی کی، شاکر اﷲ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہم سب کے سامنے ہے، ہم نے بھارتی پائلٹ کو واپس کرنے میں جلد بازی کی، بھارت کا رویہ جارحانہ ہے، وہ پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کو سمجھتا ہے کہ پاکستان دباﺅ میں آ گیا ہے، مودی دھمکی آمیز الفاظ استعمال کر رہا ہے جبکہ پاکستان امن کی بات کر رہے ہیں۔ سینیٹر مولانا عطاءالرحمان نے کہا کہ ملک پر جب بھی مشکل آئی، ہماری عوام، ہمارے سیاسی لیڈروں اور قیادت نے مقتدر اداروں کی پشت پر رہ کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا، آئندہ بھی قوم اس ملک کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے گریز نہیں کرے گی، آج بھارت نے آنکھیں دکھائی ہیں اور ہماری افواج نے اس کو بھرپور جواب دیا ہے۔ یقیناً تمام سیاسی جماعتوں اور عوام نے اپنی مسلح افواج کی کھل کر حمایت کی ہے اور یہ روایت ہمیشہ قائم رہے گی۔ سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ بی جے پی بذات خود راشٹریہ سیوک سنگھ کی ذیلی تنظیم ہے جو دہشت گرد ہے، آر ایس ایس کے لٹریچر میں لکھا ہے کہ وہ ہٹلر، مسولینی کے ماننے والے ہیں، یہ ہولوکاسٹ کے لیڈروں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی اس کا پولیٹیکل ونگ ہے، مودی احمد آباد میں مسلمانوں کا قاتل ہے، ہمارے ملک میں اس طرح کا تصور نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا اس کے بعد بھی بھارت نے سبق نہیں سیکھا۔ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی، جن کے ہزاروں سکول اور سماجی خدمات ہیں۔ سیدعلی گیلانی حریت کے سب سے بڑے رہنما ہیں۔ اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ پھر گھس کر مارنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ان کے پائلٹ گھسے تھے، ہم نے ان کو کیسے مارا سب نے دیکھا۔








