چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بار اور بنچ کے درمیان مضبوط، مسلسل اور تعمیری رابطہ مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے ناگزیر ہےاور عدالتی نظام میں جاری اصلاحات کا مقصد عوام کو سستا، تیز اور شفاف انصاف فراہم کرنا ہے۔
بار اور بنچ کے درمیان مضبوط،مسلسل اور تعمیری رابطہ مؤثر و بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے ناگزیر ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بار اور بنچ کے درمیان مضبوط، مسلسل اور تعمیری رابطہ مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے ناگزیر ہےاور عدالتی نظام میں جاری اصلاحات کا مقصد عوام کو سستا، تیز اور شفاف انصاف فراہم کرنا ہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات اور نظامِ انصاف کی بہتری کے حوالے سے بدھ کو ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان نے کی۔سپریم کورٹ میں ہونے والے اس اجلاس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بہاولنگر، تحصیل بار ایسوسی ایشن کبیر والا، میاں چنوں، یزمان، شیخوپورہ اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلاء برادری نظامِ انصاف کا مرکزی ستون ہے اور عدالتی کارکردگی میں بہتری کے لئے بار کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زیرِ عمل اصلاحات کا بنیادی مقصد مقدمات کے بروقت فیصلے، عدالتی طریقہ کار کی بہتری اور سائلین کو فوری ریلیف کی فراہمی ہے۔
اجلاس میں عدالتی اصلاحات، کیس مینجمنٹ سسٹم، ای فائلنگ، ویڈیو لنک سماعتوں، عوامی سہولت مراکز، اور متبادل تنازع حل (اے ڈی آر) کے نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل جوڈیشل کمیٹی (پالیسی میکنگ) اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آ ف پاکستان کے تحت مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ذریعے وکلاء خصوصاً نوجوان وکلاء کے لئے تربیتی پروگرامز جاری ہیں تاکہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے۔
اجلاس میں خواتین فسیلی ٹیشن سینٹرز، ای لائبریریز، عدالتی عمارتوں کی سولرائزیشن، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری جیسے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ عدلیہ اور وکلاء برادری کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر ایک جدید، مؤثر اور عوام دوست نظامِ انصاف کو فروغ دیا جائے گا۔








