چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر ستارہ امتیاز نے کہا ہے کہ تعمیرِ نو یونیورسٹی کا قیام بلوچستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا، جو صوبے میں اعلی تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف بلوچستان کے طلبہ و طالبات کو اپنے ہی صوبے میں معیاری اور جدید تعلیم …
بلوچستان کے تعلیمی ادارے معیار اور صلاحیت میں ملک کے کسی بھی ادارے سے کم نہیں،چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن
کوئٹہ۔ 05 جون (اے پی پی):چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر ستارہ امتیاز نے کہا ہے کہ تعمیرِ نو یونیورسٹی کا قیام بلوچستان کے تعلیمی منظرنامے میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا، جو صوبے میں اعلی تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف بلوچستان کے طلبہ و طالبات کو اپنے ہی صوبے میں معیاری اور جدید تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ یہ ادارہ مستقبل میں خطے کا ایک اہم علمی و تحقیقی مرکز بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تعمیرِ نو ایجوکیشنل سسٹم کے طلبہ، طالبات اور اساتذہ کرام سے خصوصی خطاب کے دوران کیا۔چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اس کی حقیقی ترقی کا انحصار تعلیم اور تحقیق کے فروغ پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید علوم، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں آگے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اس مقصد کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کوئٹہ میں تعلیمی اداروں کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے معیار کے لحاظ سے کسی بھی بڑے شہر کے اداروں سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے طلبہ و طالبات میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور اگر انہیں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستانی تعلیمی ادارے اور نوجوان عالمی سطح پر اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر اور تحقیق پر مبنی بنایا جائے تاکہ قومی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹیوں کو تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے بین الجامعاتی تعاون، تحقیقی منصوبوں اور تعلیمی اشتراک کے مواقع فراہم کیے ہیں تاکہ اعلی تعلیم کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔چیئرمین ایچ ای سی نے تعمیرِ نو ٹرسٹ بلوچستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ معیاری تعلیم کے فروغ اور کردار سازی میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور بلوچستان کے تعلیمی نظام میں ایک روشن مثال ہے۔انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ کی علمی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی اور کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دیں، جبکہ طلبہ کو محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی۔طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کامیابی کا راستہ محنت، دیانت اور تسلسل سے گزرتا ہے، اور نوجوانوں کو اپنی تمام تر توانائیاں علم کے حصول اور اپنی صلاحیتوں کے نکھار پر صرف کرنی چاہئیں۔
اس موقع پر سیکرٹری تعمیرِ نو ٹرسٹ بلوچستان محمد نسیم لہڑی نے کہا کہ ٹرسٹ کا مقصد بلوچستان کے ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانا ہے، اور اس مشن کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ تعلیمی شعبے میں کام کرنے والے اداروں کی بھرپور حوصلہ افزائی اور تعاون کریں تاکہ صوبے میں تعلیمی ترقی کا عمل مزید تیز ہو سکے۔
بعد ازاں ممبر بورڈ آف گورنرز تعمیرِ نو ٹرسٹ بلوچستان اور سیکرٹری حکومت بلوچستان حافظ محمد طاہر نے چیئرمین ایچ ای سی کو ادارے کی کارکردگی، کامیابیوں اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ تعمیرِ نو ٹرسٹ بلوچستان میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے اور مستقبل میں بھی تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
تقریب میں مختلف سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز، ماہرینِ تعلیم، سینئر اساتذہ، تعلیمی منتظمین، طلبہ و طالبات، اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا ءنے بلوچستان میں اعلی تعلیم کے فروغ اور تعمیرِ نو یونیورسٹی کے قیام کو ایک اہم اور خوش آئند تعلیمی پیش رفت قرار دیا۔









