بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی زیر اہتمام بین العقائد ہم آہنگی اور بقائے باہمی پیغام پرفوکس گروپ کا چوتھا اجلاس

اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام بین العقائد ہم آہنگی اور بقائے باہمی پر پیغام پاکستان کی روشنی میں منعقدہ فوکس گروپ کے چوتھے اجلاس میں مذہبی سکالرز، علمائ، پارلیمینٹرینز، غیر مسلم نمائندوں، مدرسین اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات نے متفقہ پالیسی اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بین العقائد مذاکرہ پر امن بقائے …

اسلام آباد ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام بین العقائد ہم آہنگی اور بقائے باہمی پر پیغام پاکستان کی روشنی میں منعقدہ فوکس گروپ کے چوتھے اجلاس میں مذہبی سکالرز، علمائ، پارلیمینٹرینز، غیر مسلم نمائندوں، مدرسین اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات نے متفقہ پالیسی اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بین العقائد مذاکرہ پر امن بقائے باہمی اورہم آہنگی کے فروغ کا کلیدی ذریعہ ہے، بین العقائد مذہبی و نظریاتی اختلافات پر تب تک بحث نہ ہو جب تک کہ اختلاف رائے کے آداب کا خیال نہ رکھا جائے، آئین پاکستان میں اقلیت کے لفظ کو غیر مسلم سے تبدیل کیا جائے جبکہ بین العقائدہم آہنگی، صبر اور پرامن بقائے باہمی کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر سکولوں میں متعارف کرایا جائے۔ اسلامی یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں منعقدہ اس اجلاس کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز گفتگو کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ شرکاءنے کہا کہ تمام مذہبی سکالرز کے لئے یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ حب الوطنی، معاشرتی اقدار اور بین العقائد ہم آہنگی پر ہفتہ وار اجتماعات میں گفتگو کریں۔ شرکاءنے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اس امر کی کسی کو بھی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عقیدہ میں اختلافات کے باعث پاکستان اورملکی نظریات کو نشانہ بنائے۔ اجلاس میں بلائے گئے 30 سے زائد شرکاءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اس کے ارتکاب کرنے والے شخص کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ بین العقائد مذاکرے کو امن کے استحکام اور پر امن بقائے باہمی کے فروغ کے لئے پالیسی کے طور پر استعمال کیا جائے۔ شرکاءنے اتفاق کیا کہ تمام مکاتب فکر کے مذہبی نظریات کو برابر توجہ دی جائے اور باہمی احترام کا رویہ اپنایا جائے۔

Leave a Reply