ملک کے ڈیٹ انڈیکیٹرز پائیدار حدود کے اندر ہیں،قرضہ کی لاگت اور رسک سے متعلق اشاریے مالی سال 2013ءکے مقابلہ میں واضح طور پر بہتر ہوئے،ترجمان وزارت خزانہ کی قرضوں کی پائیداریت کے اشاروں سے متعلق میڈیا کے ایک حصہ میں آنے والی رپورٹ کے حوالہ سے وضاحت اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) وزارت خزانہ کے ترجمان نے قرضوں کی پائیداریت کے اشاروں سے متعلق میڈیا کے …
ترجمان وزارت خزانہ کی قرضوں کی پائیداریت کے اشاروں سے متعلق میڈیا کے ایک حصہ میں آنے والی رپورٹ کے حوالہ سے وضاحت

مزید خبریں
ملک کے ڈیٹ انڈیکیٹرز پائیدار حدود کے اندر ہیں،قرضہ کی لاگت اور رسک سے متعلق اشاریے مالی سال 2013ءکے مقابلہ میں واضح طور پر بہتر ہوئے،ترجمان وزارت خزانہ کی قرضوں کی پائیداریت کے اشاروں سے متعلق میڈیا کے ایک حصہ میں آنے والی رپورٹ کے حوالہ سے وضاحت
اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) وزارت خزانہ کے ترجمان نے قرضوں کی پائیداریت کے اشاروں سے متعلق میڈیا کے ایک حصہ میں آنے والی رپورٹ کے حوالہ سے وضاحت کی ہے کہ یہ بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہے اور اس میں بے بنیاد نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ پیر کو جاری ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ ملک کے ڈیٹ انڈیکیٹرز پائیدار حدود کے اندر ہیں، وسط مدتی ڈیٹ مینجمنٹ سٹرٹیجی 3 سے 5 سال کی مدت کیلئے ہوتی ہے۔ فروری 2016ءمیں شائع ہونے والی دوسری وسط مدتی ڈیٹ مینجمنٹ سٹرٹیجی سابقہ حکمت عملی کا تسلسل تھی جو اپریل 2014ءمیں شائع ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ قرضہ کی لاگت اور رسک سے متعلق اشاریے مالی سال 2013ءکے مقابلہ میں واضح طور پر بہتر ہوئے ہیں اور وسط مدتی حکمت عملی کے تحت متعین کردہ حدود کے اندر ہیں، اس لئے ڈیٹ رسک انڈیکیٹرز کو ایک سال یا اس سے کم کی مختصر مدت میں علیحدہ دیکھنا بے معنی ہے کیونکہ اس میں وسط مدتی نکتہ نظر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ لکھنے والے کی محدود سمجھ کو ان حقائق سے بھی ناپا جا سکتا ہے کہ وہ ڈیٹ رسک انڈیکیٹرز کو بیان نہیں کر سکا اور غلط اعداد و شمار پیش کئے جن کی بنیاد پر بے بنیاد نتائج بھی اخذ کئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈومیسٹک ڈیٹ کی میچورٹی کی اوسط مدت بھی تین ماہ سے ایک سال اور 8 ماہ سے آخری مالی سال تک کم ہو گئی ہے، یہ بیان مکمل طور پر بے بنیاد ہے کیونکہ نہ تو اعداد و شمار اور نہ ہی اس کا نتیجہ درست ہے۔








