اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) تین ماہ کے دوران ایم والٹ کے ذریعے رقوم کی ٹرانزیکشنز351 ارب روپے تک بڑھ گئیں۔ رواں سال2017ءکی پہلی سہ ماہی میں جنوری تا مارچ کے دوران برانچ لیس بینکنگ کے شعبہ میں موبائل فونز کے ذریعہ کی جانے والی مالیاتی ٹرانزیکشنز136 ملین تک بڑھ گئیں۔ موبائل فونز سے روزانہ تقریباً1.5 ملین ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ …
تین ماہ کے دوران ایم والٹ کے ذریعے رقوم کی ٹرانزیکشنز351 ارب روپے
اسلام آباد ۔ 5 جولائی (اے پی پی) تین ماہ کے دوران ایم والٹ کے ذریعے رقوم کی ٹرانزیکشنز351 ارب روپے تک بڑھ گئیں۔ رواں سال2017ءکی پہلی سہ ماہی میں جنوری تا مارچ کے دوران برانچ لیس بینکنگ کے شعبہ میں موبائل فونز کے ذریعہ کی جانے والی مالیاتی ٹرانزیکشنز136 ملین تک بڑھ گئیں۔ موبائل فونز سے روزانہ تقریباً1.5 ملین ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق برانچ لیس بینکنگ کے شعبہ میں کی جانے والی مجموعی ٹرانزیکشنز میں ایم والٹ کی ٹرانزیکشنز کی شرح57 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ برانچ لیس بینکنگ کے شعبہ میں کاﺅنٹر پر رقوم کے لین دین کا تناسب 43 فیصد تک کم ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق تین ماہ کے دوران جنوری تا مارچ2017ءکے دوان برانچ لیس بینکنگ کے شعبہ میںموبائل فونز کے ذریعہ مالیاتی ٹرانزیکشنز( ایم والٹ) کا حجم 351 ارب روپے تک پہنچ گیا۔









