حیدرآباد۔ 11 فروری (اے پی پی):ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں فصلوں کی صحت کی بروقت تشخیص، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مؤثر مقابلہ اور ممکنہ غذائی قلت جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی کا مؤثر اور منظم استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار ترقی، بہتر پیداواری صلاحیت اور موسمیاتی لچک کے حصول کے …
جدید زرعی ٹیکنالوجی کا مؤثر اور منظم استعمال ناگزیر ہو چکا ہے،ماہرین
حیدرآباد۔ 11 فروری (اے پی پی):ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں فصلوں کی صحت کی بروقت تشخیص، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مؤثر مقابلہ اور ممکنہ غذائی قلت جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی کا مؤثر اور منظم استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار ترقی، بہتر پیداواری صلاحیت اور موسمیاتی لچک کے حصول کے لیے روایتی کاشتکاری سے ٹیکنالوجی پر مبنی جدید زراعت کی جانب فیصلہ کن پیش رفت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارسندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس برائے ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجیز (ICAET-2026) کی اختتامی تقریب کے موقع پر کیا گیا۔اس کانفرنس کا انعقاد فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور اسریٰ یونیورسٹی حیدرآباد کے تعاون سے کیا۔تکنیکی نشستوں اور پیش کردہ تحقیقی مقالات کی روشنی میں ماہرین نے جامع سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آبپاشی نظام اور زرعی منصوبہ بندی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈسین سپورٹ سسٹمز کو ادارہ جاتی سطح پر نافذ کیا جائے تاکہ وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی خطرات کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
شرکاء نے پالیسی ساز اداروں پر زور دیا کہ تحقیقی نتائج کو آبپاشی کی جدیدکاری، نہری نظام کی بہتری اور زیرزمین پانی کے پائیدار انتظام سے متعلق پالیسیوں میں عملی طور پر شامل کیا جائے جبکہ ڈیٹا انفراسٹرکچر بشمول موسمیاتی اسٹیشنز، سینسرز، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور فارم سطح کے ڈیٹا سسٹمز میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے۔سفارشات میں پانی بچانے والی جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز اور سائنسی بنیادوں پر آبپاشی شیڈولنگ کو فارم اور کمانڈ ایریا کی سطح پر رائج کرنے، جبکہ ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی معلوماتی نظام کے ذریعے پانی کے استعمال، فصلوں کی کارکردگی اور موسمی خطرات کی حقیقی وقت میں نگرانی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ دنیا بھر میں زراعت تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کے انضمام کے ذریعے ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پانی اور دیگر زرعی وسائل کے استعمال کی مقدار اور اوقات کا تعین پرسن ٹ مینجمنٹ کے تحت کیا جا رہا ہے
جس سے کارکردگی اور پیداوار میں اضافہ ممکن ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جی آئی ایس اور ریموٹ سینسنگ کے ذریعے زمین کی نمی، خشک سالی، بارشوں کے پیٹرن اور ممکنہ خطرات کی مؤثر نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک پوسٹ ہارویسٹ نقصانات میں کمی اور موسمیاتی تغیر کے بہتر انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر منیر احمد منگریو نے کہا کہ تکنیکی سیشنز میں پائیدار زرعی انجینئرنگ کے عملی اور قابلِ عمل حلوں پر خصوصی توجہ دی گئی، بالخصوص پانی کی قلت، موسمیاتی تغیر اور وسائل کے مؤثر استعمال جیسے مسائل کے تناظر میں۔انہوں نے بتایا کہ متعدد تحقیقی مطالعات میں ڈیفیسٹ اریگیشن، پریشرائزڈ سسٹمز، اسمارٹ شیڈولنگ اور آٹومیشن جیسی جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کو مؤثر قرار دیا گیا۔ انہوں نے آن فارم واٹر مینجمنٹ، پانی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور ترسیلی نقصانات میں کمی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد شیخ، انجینئر ڈاکٹر ظہیر احمد خان اور دیگر ماہرین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
تقریب میں ڈاکٹر معشوق احمد ٹالپر، ڈاکٹر فرمان علی چانڈیو، نیشنل بینک آف پاکستان کے زرعی شعبے کے سربراہ ساجد علی سومرو، اسریٰ یونیورسٹی کے حسن خان درانی، سیڈا کے پرویز احمد بانبھن، ڈاکٹر محمود لغاری سمیت اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک تھی۔تقریب کے اختتام پر شرکاء، منتظمین اور طلبہ میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔









