جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نظامِ انصاف کو شفاف اور مؤثر بنایا جا رہا ہے،وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت نظامِ انصاف میں جامع اصلاحات کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کر رہی ہے تاکہ عدالتی عمل کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی و …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت نظامِ انصاف میں جامع اصلاحات کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کر رہی ہے تاکہ عدالتی عمل کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی و عدالتی نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے عوام کو بروقت اور آسان انصاف کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوڈ کے ذریعے قوانین تک رسائی کو عام کیا گیا ہےجبکہ دستاویزی و ذخیرہ جاتی نظام کے تحت 176 برس پر محیط قانون سازی کا ریکارڈ ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جا چکا ہے۔وزیرِ مملکت نے کہا کہ مقدمات کی درجہ بندی، مؤثر انتظام اور کیس فلو مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ سے عدالتی کارروائی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی ثالثی و مصالحتی مرکز کے قیام سے متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو تقویت اور عدالتوں پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل شواہد کی قبولیت اور ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت جیسی اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن کا مقصد عدالتی عمل کو تیز اور سہل بنانا ہے۔بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 16 سے ہم آہنگ ہیں اور حکومت ایک شفاف، جوابدہ اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔