اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کا انحصار تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی عوام کی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امن، مکالمے اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر مبنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب …
جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کا انحصار تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی امن، مکالمے اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر مبنی ہے، نائب وزیرِاعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کا انحصار تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی عوام کی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امن، مکالمے اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر مبنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیرِاعظم نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے تاہم سفارتکاری بدستور پاکستان کی ریاستی حکمتِ عملی کا بنیادی ذریعہ رہے گی۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام کا انحصار تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کےلئے پرعزم ہے۔
نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ نے بھارت کے پانچ اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں کئے گئے یکطرفہ اقدامات کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کی ہمہ موسمی تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات دفاعی شعبہ سے آگے بڑھ کر تجارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری تک پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، وسطی ایشیائی ملکوں اور خلیجی ریاستوں سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اعلیٰ سطح کے روابط اور اقتصادی تعاون کے ذریعے مزید فروغ دیا جارہا ہے۔ نائب وزیرِاعظم نے اقتصادی سفارتکاری کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، توانائی اور صنعت کے شعبوں پر توجہ دے کر قومی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے 2025–26 کی مدت کےلئے غیر مستقل رکن منتخب ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کی اصولی اور تعمیری سفارتکاری پر عالمی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔








