جونا گڑھ کو بھی مسئلہ کشمیر کی طرح بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔ مقررین کا گول میز مذاکرہ "جونا گڑ ھ الحاق پاکستان ایک تجزیہ ” سے خطاب

اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی) جونا گڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہے جس پر بھارت نے غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اس مسئلہ کو مسئلہ کشمیر کی طرح بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے ۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان مسئلہ جونا گڑھ کا دفاع کر سکتا ہے اور جب تک الحاق کا قانون زندہ ہے جونا گڑھ کا مسئلہ بھی …

اسلام آباد ۔ 22 ستمبر (اے پی پی) جونا گڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہے جس پر بھارت نے غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اس مسئلہ کو مسئلہ کشمیر کی طرح بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے ۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان مسئلہ جونا گڑھ کا دفاع کر سکتا ہے اور جب تک الحاق کا قانون زندہ ہے جونا گڑھ کا مسئلہ بھی زندہ ہے ۔ تقسیم ہند سے قبل اگست 1947میں نواب آف جونا گڑھ نواب مہابت خانجی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا تھا نواب مہابت خانجی اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مابین الحاقی دستاویز پردستخط ہوئے تھے اور ستمبر 1947سے نومبر1947 تک جونا گڑھ پاکستان کا حصہ رہا۔جونا گڑھ پر بھارتی افواج کا قبضہ اکیسویں صدی میںنو آبادیات کی ایک مثال ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے مسلم انسٹیوٹ کے جانب سے منعقدہ گول میز مذاکرہ بعنوان "جونا گڑ ھ الحاق پاکستان ایک تجزیہ ” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین میں نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی، چیئر مین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ احمد علی،معروف قانون دان و سابق وقافی وزیر احمر بلال صوفی، مسلم لیگ ن کے رہنما سید ظفر علی شاہ ، ایسوسی ا یٹ پروفیسر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹرنذیر احمد، ایسوسی ایٹ ڈین سی پی سی ایس ،نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر طغرل یامین ، پاکستان کے سابق سفیر اشتیاق آصف اندرابی اور عامر انور شادانی شامل تھے۔

Leave a Reply