اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کی مستقل پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے باعث پاکستان ایک بار پھر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔اتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے امن، پالیسی کے تسلسل اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کو ترقی اور …
حکومت کی مستقل پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے باعث پاکستان ایک بار پھر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے،احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔2نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کی مستقل پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے باعث پاکستان ایک بار پھر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔اتوار کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے امن، پالیسی کے تسلسل اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ایک مثال بنایا جا سکے۔انہوں نے حالیہ معاشی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ افراطِ زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آ گئی ہے، جبکہ شرحِ سود 23 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد ہو گئی ہے، ان کامیابیوں کا سارا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کے مشکل مگر ذمہ دارانہ معاشی فیصلوں کو جاتا ہے۔
احسن اقبال نے یاد دلایا کہ جب اتحادی حکومت نے 2022 میں اقتدار سنبھالا، تو بین الاقوامی مبصرین پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے تاہم بروقت اصلاحی اقدامات سے معیشت کو مستحکم کیا گیا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے خلاف منفی بیانیہ پھیلا یا اور منصوبوں کو روک کر اس کو نقصان پہنچایا، جس سے بداعتمادی پیدا ہوئی اور ترقی رک گئی۔”2022 کے بعد ہم نے چین کے ساتھ اعتماد بحال کیا اور دوبارہ شراکت داری شروع کی۔ تقریبا سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو پانچ نئی راہداریوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے پانچ بڑی راہداریوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گروتھ راہداری صنعتی اور تجارتی ترقی کے ذریعے معاشی وسعت کو تیز کرنے پر مرکوز ہو گی۔لائیولی ہُڈ اور سماجی و اقتصادی راہداری پسماندہ علاقوں کی ترقی، روزگار کے مواقع اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرے گی۔جدت پر مبنی ترقی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ انوویشن اینڈ ٹیکنالوجی راہداری چین کی مہارت خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز میں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گرین انرجی راہداری دونوں ممالک کے درمیان صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے تعاون کو فروغ دے گی تاکہ پاکستان کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔مزید برآں علاقائی رابطہ اور کھلی ترقی کی راہداری پاکستان کو جدید بنیادی ڈھانچے، تجارتی سہولتوں اور جامع ترقی کے ذریعے خطے کے دیگر ممالک سے جوڑنے کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نئے فریم ورک کا فوکس صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ صنعتی تعاون، زراعت کی جدید کاری، معدنیات کی ترقی، اور ٹیکنالوجی و اختراع میں اشتراک پر بھی ہے۔احسن اقبال نے بتایا کہ نئے فریم ورک کے تحت کئی منصوبے شروع ہو چکے ہیں جبکہ کچھ جلد آغاز کے مراحل میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے زرعی تجربات خاص طور پر پیداواریت میں بہتری کے لیے فائدہ اٹھائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ چین کراچی اور اسلام آباد میں دو خصوصی اقتصادی زونز قائم کرے گا اور ایک چینی تکنیکی کمیٹی جلد پاکستان کا دورہ کر کے دونوں مقامات کا جائزہ لے گی۔یہ اقدامات پاکستان اور چین کے تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہیں جو صرف انفراسٹرکچر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، صنعت اور انسانی وسائل کی ترقی پر مرکوز ہے۔








