’’خلیج امریکا ‘‘ نہ لکھنے پر وائٹ ہاؤس میں صحافی کا داخلہ بند

واشنگٹن۔12فروری (اے پی پی):خلیج میکسیکو کا نام بدل کر ’’خلیج امریکہ‘‘ رکھنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےکے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر وائٹ ہائوس میں صحافی کا داخلہ روک دیا گیا۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)کے رپورٹر کا اس لیے وائٹ ہاؤس میں داخلہ روک دیا گیا کیونکہ نیوز ایجنسی …

واشنگٹن۔12فروری (اے پی پی):خلیج میکسیکو کا نام بدل کر ’’خلیج امریکہ‘‘ رکھنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےکے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر وائٹ ہائوس میں صحافی کا داخلہ روک دیا گیا۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)کے رپورٹر کا اس لیے وائٹ ہاؤس میں داخلہ روک دیا گیا کیونکہ نیوز ایجنسی نے خلیج میکسیکو کا نام بدل کر ’’خلیج امریکا‘‘ رکھنے کے ٹرمپ کے حکم کی تعمیل نہیں کی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے رپورٹر کو وائٹ ہاؤس نے منگل کو اوول آفس میں ہونے والے ایک پروگرام میں داخلہ دینے سے اس لئے منع کردیا کیونکہ خبر رساں ایجنسی نے”خلیج میکسیکو” کا نام تبدیل کر کے "خلیج امریکہ” رکھنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کی تعمیل نہیں کی۔ وائٹ ہاؤس نے رپورٹر، جس کی شناخت اے پی نے ظاہر نہیں کی ہے، کا داخلہ اس وقت تک روک دیا ہے، جب تک کہ نیوز ایجنسی خلیج میکسیکو کا حوالہ دینے کا اپنا انداز تبدیل نہ کردے۔

اے پی کی ایگزیکٹو ایڈیٹر جولی پیس نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اے پی کو اس کی آزاد صحافت کی سزا دے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کی رسائی کو محدود کرنے سے آزادی صحافت کی ضمانت دینے والے امریکی آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے تھے، جس میں سیکرٹری داخلہ کو خلیج میکسیکو کا نام بدل کر’’خلیج امریکا ‘‘ رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن نے منگل کو ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پابندی سے امریکا میں اظہار رائے کی آزادی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر یوجین ڈینیئلز نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک رپورٹر کو خبروں کی کوریج کے لیے ایک عام سرکاری پروگرام سے روکنے کا اقدام ناقابل قبول ہے۔اے پی کے رپورٹر کے داخلے پر پابندی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کوئی نیا تبصرہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی دیگر صحافیوں کو وائٹ ہاؤس سے روکے جانے کی کوئی اطلاع ہے۔