خواتین کے لیے مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے قوانین نصف حد تک نافذ کیے جاتے ہیں، مساوی مواقع معاشروں اورمعیشتیوں کیلئے بھی ضروری ہے، عالمی بینک

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے لیے مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے قوانین نصف حد تک نافذ کیے جاتے ہیں۔ یہ بات ’’ویمن، بزنس اینڈ دی لا‘‘ کے نام سے جاری عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ خواتین کے لیے مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے قوانین …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ دنیا بھر میں خواتین کے لیے مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے قوانین نصف حد تک نافذ کیے جاتے ہیں۔ یہ بات ’’ویمن، بزنس اینڈ دی لا‘‘ کے نام سے جاری عالمی بینک کی نئی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ خواتین کے لیے مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے قوانین کے مکمل نافذ نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ رکاوٹیں جو خواتین کو ترقی اور خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرنے سے روکتی ہیں، پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ گہری ہیں ۔

رپورٹ میں سروے کیے گئے قانونی ماہرین کے اندازوں کے مطابق خواتین کی مکمل معاشی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے والے قوانین اوسطاً صرف نصف حد تک نافذ ہوتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتوں کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے ،دنیا بھر میں صرف 4 فیصد خواتین ایسی معیشتوں میں رہ رہی ہیں جہاں تقریباً مکمل قانونی مساوات فراہم کی جاتی ہے۔

عالمی بینک گروپ کے چیف اکانومسٹ اور ترقیاتی معاشیات کے سینئر نائب صدر اندرمِت گل نے بتایا کہ کاغذ پر دیکھا جائے تو زیادہ تر ممالک مناسب کارکردگی دکھا رہے ہیں،خواتین اور مردوں کے درمیان معاشی مساوات کو ممکن بنانے کے لیے قوانین کے حوالہ سے ہرملک کو 100 میں سے 67 نمبر ملتے ہیں لیکن جب بات ان قوانین کے نفاذ کی آتی ہے تو اوسط اسکور 53 رہ جاتا ہے اور جب ان حقوق کے اطلاق کے لیے درکار نظاموں کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ اسکور صرف 47 ہوتا ہے۔ان اعداد و شمار سے مواقع میں بڑے خلا کی عکاسی ہورہی ہے۔

رپورٹ میں خواتین کی معاشی شرکت کی عالمی صورتحال کا 10 اہم شعبوں میں جائزہ لیاگیا ہے جن میں تشدد سے تحفظ، بچوں کی نگہداشت تک رسائی، کاروبار، روزگار کے تحفظات، اثاثہ جات کی ملکیت، اور ریٹائرمنٹ کا تحفظ شامل ہیں۔ عالمی بینک کے پالیسی انڈیکیٹرز گروپ کے ڈائریکٹر نارمن لوائیزا نے بتایا کہ حقیقی مساوات کا آغاز گھر ، کام کی جگہ اور عوامی مقامات پرخواتین کوتحفظ کی فراہمی سے ہوتاہے عالمی سطح پر ہم اس میں ناکام ہو رہے ہیں۔

ہمارے پاس درکار حفاظتی قوانین کا صرف ایک تہائی حصہ موجود ہے اور ان پر بھی 80 فیصد مواقع پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ رپورٹ کی مرکزی مصنفہ ٹیا ٹرمبِچ نے بتایا کہ اگلی دہائی میں 1.2 ارب افراد جن میں نصف لڑکیاں ہوں گی،افرادی قوت میں شامل ہوں گی، ان میں سے بہت سے ایسے خطوں میں جوان ہوں گے جہاں خواتین کو سب سے بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور جہاں ان کی شرکت سے جی ڈی پی میں اضافے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

خواتین کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بنانا صرف خواتین ہی نہیں بلکہ معاشروں اورمعیشتیوں کیلئے بھی ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں 68 معیشتوں میں خواتین کی معاشی زندگی کے بیشتر شعبوں میں 113 مثبت قانونی اصلاحات نافذ ہوئیں جن میں سب سے زیادہ پیش رفت کاروباری سرگرمیوں اور تشدد سے تحفظ کے میدان میں ہوئی۔ سات ممالک نے نگہداشت کی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور خواتین کے روزگار کی حمایت کے لیے پیٹرنٹی لیو میں بھی توسیع کی۔